بھارتی کپتان نے اپنے کھلاڑیوں کو ’اچھے بچے‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے اپنے کھلاڑیوں کو ’اچھے بچے‘ قرار دے دیا۔
ایک انٹرویو میں سوریا کمار یادیو نے کہا کہ ہمارے پلیئرز نے ایشیا کپ کے دوران پورے وقار کے ساتھ کرکٹ کھیلی، کسی قسم کا کوئی اشارہ کیا نہ ہی فقرے بازی کی، پاکستانی پلیئرز نے نازیبا باتیں کیں جوکہ مجھے کھلاڑی آکر بتاتے تھے مگرمیں یہاں وہ نہیں بتا سکتا۔
نوہینڈ شیک پالیسی مستقبل میں جاری رکھنے کے سوال پر سوریاکمار یادیو نے کہا کہ ہم پڑوسی ملک کی ٹیم سے صرف ملٹی نیشن ایونٹس میں کھیلتے ہیں اور ابھی دلی دور ہے، اس لیے قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا۔
ایک سوال پر سوریا کمار نے کہا کہ جب میں اپنے پلیئرز ، ان کی صلاحیتوں، انہیں پریکٹس اور گیم پر فوکس کرتا دیکھوں تو اسی کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ کوئی مسابقت باقی نہیں رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔