پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات کی تفتیش میں نقائص کی نشاندہی پر تفتیشی افسر کو کڑے احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے انویسٹی گیشن ونگ کی سرویلنس کیلئے 2 سپیشل سیل تشکیل دے دیئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پولیس نظام میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد پولیس نظام میں بہتری لاکر اسے مثالی بنانا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات کی تفتیش میں نقائص کی نشاندہی پر تفتیشی افسر کو کڑے احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے انویسٹی گیشن ونگ کی سرویلنس کیلئے 2 سپیشل سیل تشکیل دے دیئے ہیں۔ انویسٹی گیشن ریوو سیل مالیاتی و انفرادی جرائم کی تفتیش کا جائزہ لے گا۔ آئی آر سی تفتیش کے طریقہ کار کے تحت تفتیشی آفیسر کی کارکردگی کی جانچ کریگا۔

ذرائع کے مطابق تفتیش میں تاخیر اور ایس او پیز نظرانداز کرنے پر تفتیشی کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، فیڈ بیک سیل ایک دن میں مختلف مقدمات کے 400 مدعیان کو کال کریگا، مدعی مقدمہ سے تفتیش پر اطمینان کے حوالے سے فیڈ بیک لیا جائے گا، مدعی کے مطمئن نہ ہونے پر تفتیش بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ رواں سال درج ہونے والے 2 لاکھ 17ہزار مقدمات کی تیز رفتار تفتیش کی گئی، 90 فیصد مقدمات کے چالان جمع کروا دیئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ مقدمات کی تفتیش مکمل کرکے جلد چالان جمع کروائے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن مقدمات کی کی تفتیش پر تفتیش

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار