محسن نقوی کی پارلیمنٹ لاجز کے نئے بلاک کی تعمیر 4 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پارلیمنٹ لاجز کے نئے بلاک کی تعمیر کا منصوبہ 13 سال بعد دوبارہ فعال ہو گیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر منصوبے پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے آج پارلیمنٹ لاجز کے زیرِ تعمیر نئے بلاک کا دورہ کیا، اس موقع پر وزیر داخلہ نے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ منصوبہ 4 ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے فنڈز کی منظوری دی جا چکی ہے اور اسے ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا، منصوبے کی تکمیل کے بعد تمام پارلیمنٹرینز کو رہائش کی سہولت فراہم ہو سکے گی۔
بریفنگ کے دوران چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ منصوبہ 2012 میں ٹھیکے پر دیا گیا تھا اور اسے 2013 میں مکمل ہونا تھا تاہم کنٹریکٹر کی جانب سے کام روکنے اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا، منصوبے کو 2014 تک ایکسٹینشن دی گئی تھی، نیا بلاک 104 یونٹس پر مشتمل ہوگا۔
شاہدرہ : شوہر کا بیوی پر چھریوں سے حملہ، گلا کاٹنے کی کوشش
اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔