data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-11-9
سکھر(نمائندہ جسارت)سندھ حکومت کی بے حسی کی انتہا، ایشیا کی سب سے بڑی چھوہارا مارکیٹ میں روزانہ مزدوری کرنے کیلیے آنے والی ہزاروں خواتین سات کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور، خواتین ہراسگی کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار، منڈی کے بااثر سیٹھ اور سرکاری ادارے تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آغا قادر داد چھوہارا مارکیٹ میں مزدوری کرنے والی بیشتر خواتین جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نہ صرف ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام موجود ہے بلکہ خواتین کو چھوہارا منڈی کے ماحول میں مسلسل استحصال اور تذلیل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا قانون برائے انسداد ہراسگی 2010ء واضح طور پر کہتا ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہر قسم کی بدسلوکی، ہراسگی اور غیر انسانی سلوک سے محفوظ رکھنا اداروں اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ لیبر، سوشل سیکورٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت وہ ادارے، جو اس قانون پر عملدرآمد کے پابند ہیں، خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔قانون کے تحت انتظامیہ پر لازم ہے کہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرے۔ہراسگی یا تذلیل کی شکایت پر فوری ایکشن لیا جائے۔خلاف ورزی پر ملوث افراد کو سخت سزا اور جرمانہ ہوسکتا ہے۔مگر چھوہارا مارکیٹ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ صرف خواتین کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں بلکہ سات کلومیٹر روزانہ پیدل سفر کرکے کام پر پہنچنے والی خواتین کھلے عام استحصال کا شکار ہیں۔ سول سوسائٹی، این جی اوز اور انسانی حقوق کے دعویدار ادارے بھی اس انسانی المیے پر خاموش ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے قانون صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو اور عملی طور پر خواتین کو انصاف دلانے والا کوئی موجود نہ ہو۔سوال یہ ہے کہ اگر آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے بھی خواتین کے ساتھ یہ رویہ روا رکھا جا رہا ہے تو پھر انصاف کہاں ہے؟۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خواتین کو

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار