پاور ڈویژن کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی پر رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-12
اسلام آباد (آن لائن) پاور ڈویژن نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی پر 4 اکتوبر تک کی رپورٹ جاری کر دی ۔رپورٹ کے مطابق فیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں 28 گرڈ اور 81 فیڈرز متاثر ہوئے، متاثرہ فیڈرز میں 74 مکمل اور 7 جزوی طور پر بحال کردیے گئے، پاور ڈویژن کے مطابق فیسکو کے زیرِ انتظام علاقے فیصل آباد ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور میاں والی میں بجلی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔ لیسکو کے 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 66 مکمل اور 1 جزوی طور پر بحال ہوچکے ہیں, لیسکو کے 150 متاثرہ صارفین کیلیے بجلی کی بحالی کا کام تقریباََ 14 اکتوبر تک مکمل کرنے کی توقع ہے ۔ رپورٹ کے مطابق لیسکو کے زیرِ انتظام علاقے لاہور, ننکانہ, شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں بجلی کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔میپکو کے 181 متاثرہ فیڈرز میں سے 76 مکمل اور 102 جزوی طور پر بحال کر لیے گئے ہیں ۔ میپکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں پانی اترتے ہی متاثرہ فیڈرز کی مکمل بحالی کا کام شروع ہو جائے گا، رپورٹ کے مطابق گیپکوکے کے 11 گرڈز اور 103فیڈرزمتاثر ہوئے ، متاثرہ فیڈرز میں سے 102 فیڈرز مکمل اور 1 جزوی طور پر بحال ہوچکے ہیں، پاور ڈویژن کے مطابق گیپکو کے 3 متاثرہ صارفین کیلیے بجلی بحالی کا کام سیلاب کا پانی اترنے پر مکمل کر لیا جائے گا۔ پیسکو کے 90 فیڈرز مکمل طور پر بحال کردیے گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق ٹیسکو کے علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر کے 18 متاثرہ فیڈرز مکمل طور پر بحال کرلیے گئے ہیں ۔ سیپکو کے 44 متاثرہ فیڈرز میں سے 8 مکمل اور 36 عارضی طور پر بحال کر لیے گئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 51 گرڈ اور 588 فیڈرز متاثر ہوئے،جن میں سے 437 فیڈر مکمل اور 147 جزوی طور پر بحال کیے جا چکے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: متاثرہ فیڈرز میں سے جزوی طور پر بحال رپورٹ کے مطابق طور پر بحال کر بحالی کا کام پاور ڈویژن علاقوں میں بجلی بحالی میں بجلی مکمل اور گئے ہیں کے زیر
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔