ملکہ برطانیہ کا مطالبہ جس نے بادشاہ چارلس کو سخت پریشان کرکے رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے بکنگھم پیلس کی جاری تزئین و آرائش میں ایک نئی اور شاندار لائبریری کی تعمیر کی تجویز پیش کی ہے، جس پر بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے ناپسندیدگی اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے۔ شاہی ذرائع کے مطابق اس تجویز نے دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات کو جنم دیا ہے۔
بکنگھم پیلس کی تزئین و آرائش پر تقریباً 369 ملین پاؤنڈ (تقریباً 750 ملین آسٹریلوی ڈالر) لاگت آئے گی، یہ منصوبہ 2017 میں شروع ہوا تھا، جس کی تکمیل 10 سال میں متوقع ہے۔ اس کا مقصد محل کے بوسیدہ برقی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی نظاموں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ اسے آئندہ نصف صدی تک محفوظ اور فعال رکھا جا سکے اور آگ اور سیلاب کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: انسان نما روبوٹ کا کمال، ملکہ الزبتھ کے بعد شاہ چارلس کی بھی تصویر بنا ڈالی
ملکہ کمیلا کی خواہش ہے کہ محل میں ایک جدید اور باوقار لائبریری قائم کی جائے کیونکہ بکنگھم پیلس میں اس وقت کوئی مستقل لائبریری موجود نہیں، جبکہ آخری بار شاہ جارج چہارم نے شاہی کتب خانہ 19ویں صدی میں برٹش میوزیم کو عطیہ کر دیا تھا۔
ایک شاہی ذرائع کے مطابق ’کتابوں اور مطالعے سے ملکہ کمیلا کی گہری وابستگی ہے، اور وہ سمجھتی ہیں کہ شاہی رہائش گاہ میں لائبریری کا نہ ہونا ناقابلِ قبول ہے۔ یہ ان کی ذاتی طور پر سب سے اہم خواہش ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: پرنس ولیم اور ہیری کے درمیان برسوں پرانی رقابت کی وجہ کیا ہے؟
تاہم بادشاہ چارلس کو اس تجویز پر شدید تحفظات ہیں۔ ذرائع کے مطابق، تعمیراتی منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت اور پیچیدگی پہلے ہی ان کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، اور اس میں ایک اضافی کمرے کی خواہش انہیں مزید پریشان کر رہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ دونوں کے درمیان ’اختلاف کی وجہ‘ بن چکا ہے، حالانکہ شاہی جوڑے نے حال ہی میں اپنی 20ویں شادی کی سالگرہ منائی ہے۔
ملکہ کمیلا، جو کہ ادب، مطالعہ اور خواندگی کے فروغ کی سرگرم حامی رہی ہیں، The Queen’s Reading Roomجیسے ادبی پلیٹ فارمز کے ذریعے مصنفین اور قارئین کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہیں۔ وہ مختلف اسکولوں، جیلوں اور کمیونٹی سینٹرز کا دورہ کر چکی ہیں اور کئی فلاحی اداروں کی سرپرست بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملکہ الزبتھ کی شادی کے کیک کا نایاب ٹکڑا فروخت، خریدار نے کھانے کا منصوبہ بنا لیا
گزشتہ ماہ انہوں نے ایک ادبی میلے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا یہ منصوبہ لاک ڈاؤن کے دوران محض نو پسندیدہ کتابوں کی ایک فہرست کے طور پر شروع ہوا تھا، جو اب ایک عالمی سطح پر معروف آن لائن کمیونٹی میں تبدیل ہو چکا ہے۔
فی الوقت شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کلیرنس ہاؤس میں قیام پذیر ہیں، جہاں ایک لائبریری پہلے ہی موجود ہے جو کہ ملکہ الزبتھ دوم (بطور شہزادی) کے دور میں ایک داخلی ہال کو تبدیل کر کے بنائی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بادشاہ چارلس بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا میں ناراضگی ملکہ برطانیہ ملکہ کمیلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بادشاہ چارلس ملکہ برطانیہ ملکہ کمیلا بادشاہ چارلس ملکہ کمیلا میں ایک
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔