ویسٹ انڈیز کے سابق آل راؤنڈر برنارڈ جولیئن 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ویسٹ انڈیز کے سابق آل راؤنڈر برنارڈ جولیئن 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کا انتقال ہفتہ کے روز شمالی ٹرینیڈاڈ کے قصبے والسائن میں ہوا۔ جولیئن 1975 میں ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے اہم رکن تھے اور انہوں نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے 24 ٹیسٹ اور 12 ایک روزہ میچ کھیلے۔
جولیئن نے 1975 کے پہلے ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ گروپ مرحلے میں سری لنکا کے خلاف 20 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف 27 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف 26 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی۔ ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے انہیں جارح مزاج آل راؤنڈر کے طور پر پہچان دلائی۔
یہ بھی پڑھیے: ویسٹ انڈیز کا عروج اور انضمام کی ناقابل شکست اننگز
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ نے کہا کہ وہ ہمیشہ 100 فیصد دیتے تھے، کبھی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بیٹ اور بال دونوں کے ساتھ ان پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔ وہ ایک شاندار کرکٹر تھے۔
1973 میں لارڈز ٹیسٹ میں جولیئن نے انگلینڈ کے خلاف 121 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی پہلی سنچری اسکور کی، جبکہ اگلے سال اسی حریف کے خلاف پانچ وکٹیں بھی حاصل کیں۔
وہ 1970 سے 1977 تک کینٹ کاؤنٹی کی نمائندگی کرتے رہے۔ تاہم، 1982-83 میں اپارتھائیڈ دور میں جنوبی افریقہ کا دورہ کرنے والی بغاوتی ویسٹ انڈیز ٹیم میں شامل ہونے کے بعد ان کا کیریئر ختم ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے: ویسٹ انڈیز کی تاریخ ساز فتح، 34 سال بعد پاکستان کے خلاف سیریز جیت لی
کرکٹ ویسٹ انڈیز کے صدر ڈاکٹر کشور شالو نے کہا کہ برنارڈ جولیئن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہم اس باب کو اخراج کے بجائے سمجھ بوجھ کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ برنارڈ جولیئن کے اہل خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں سے ہم دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی زندگی مقصد کے ساتھ گزری اور ان کا کردار کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برنارڈ جولیئن کرکٹ کھیل ویسٹ انڈیز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برنارڈ جولیئن کرکٹ کھیل ویسٹ انڈیز برنارڈ جولیئن ویسٹ انڈیز کے کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔