بھارت کے اسپتال میں خوفناک آتشزدگی؛ 6 مریض ہلاک اور متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
بھارتی ریاست راجستھان کے سب سے بڑے اسپتال مان سنگھ کے ٹراما سینٹر میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس میں 2 خواتین سمیت 6 مریض ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹراما سینٹر انچارج ڈاکٹر انوراگ دھاکڑ نے بتایا کہ آگ نیورو آئی سی یو کے اسٹوریج ایریا میں لگی۔ جہاں 11 مریض زیرِ علاج تھے۔
اس دوران قریبی وارڈ میں زیرِ علاج 14 مریضوں کو بروقت دوسری جگہ منتقل کیا گیا جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم رہی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ لگتے ہی اسپتال میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی، دھوئیں کے سیاہ بادل پھیل گئے۔ عملے اور تیمارداروں نے مریضوں کو بیڈ سمیت باہر نکالنے کی کوشش کی۔
اسپتال متاثرہ شعبے کا ریکارڈ جل کر خاکستر ہوگیا جب کہ خون کے نمونے اور آئی سی یو کے قیمتی آلات بھی شعلوں کی نذر ہوگئے۔
فائر بریگیڈ کا عملہ اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچا اور کھڑکیاں توڑ کر ریسکیو شروع کیا۔ دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔
ہلاک مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عملے کو پہلے ہی دھوئیں کے اخراج کی اطلاع دی تھی لیکن اس پر توجہ نہ دی گئی۔
ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ عملے نے سنجیدگی نہیں دکھائی، جب آگ بھڑکی تو وہی مریضوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے بھاگ کھڑے ہوئے۔
راجستھان کے وزیراعلیٰ بھجن لال شرما، پارلیمانی امور کے وزیر جوگارام پٹیل اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ جواہر سنگھ بیدھم نے اسپتال کا دورہ کیا۔
تاہم موقع پر موجود غمزدہ لواحقین نے وزرا کو گھیر کر شدید احتجاج کیا اور اپنے پیاروں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔