بھارتی ریاست راجستھان کے سب سے بڑے اسپتال مان سنگھ کے ٹراما سینٹر میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس میں 2 خواتین سمیت 6 مریض ہلاک ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹراما سینٹر انچارج ڈاکٹر انوراگ دھاکڑ نے بتایا کہ آگ نیورو آئی سی یو کے اسٹوریج ایریا میں لگی۔ جہاں 11 مریض زیرِ علاج تھے۔

اس دوران قریبی وارڈ میں زیرِ علاج 14 مریضوں کو بروقت دوسری جگہ منتقل کیا گیا جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم رہی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ لگتے ہی اسپتال میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی، دھوئیں کے سیاہ بادل پھیل گئے۔ عملے اور تیمارداروں نے مریضوں کو بیڈ سمیت باہر نکالنے کی کوشش کی۔

اسپتال متاثرہ شعبے کا ریکارڈ جل کر خاکستر ہوگیا جب کہ خون کے نمونے اور آئی سی یو کے قیمتی آلات بھی شعلوں کی نذر ہوگئے۔

فائر بریگیڈ کا عملہ اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچا اور کھڑکیاں توڑ کر ریسکیو شروع کیا۔ دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔

ہلاک مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عملے کو پہلے ہی دھوئیں کے اخراج کی اطلاع دی تھی لیکن اس پر توجہ نہ دی گئی۔

ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ عملے نے سنجیدگی نہیں دکھائی، جب آگ بھڑکی تو وہی مریضوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے بھاگ کھڑے ہوئے۔

راجستھان کے وزیراعلیٰ بھجن لال شرما، پارلیمانی امور کے وزیر جوگارام پٹیل اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ جواہر سنگھ بیدھم نے اسپتال کا دورہ کیا۔

تاہم موقع پر موجود غمزدہ لواحقین نے وزرا کو گھیر کر شدید احتجاج کیا اور اپنے پیاروں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا