Express News:
2026-07-24@02:51:09 GMT

فلسطین کا امن منصوبہ: حقیقت یا فریب؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ سات دہائیوں پر محیط ایک ایسا المیہ ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور سفارت کاری کو اپنے دائرہ اثر میں لے رکھا ہے۔

ہر دور میں اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے گئے، مذاکرات کی میزیں سجی، قراردادیں منظور ہوئیں، مگر ایک پائیدار اور منصفانہ حل تاحال سامنے نہ آسکا۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا ہے، جسے انھوں نے بڑے دعوے اور فخر کے ساتھ ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ قرار دیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقوں میں غزہ میں امن کی جانب ایک نئی پیش رفت کہا جا رہا ہے جب کہ بیشتر عالمی ماہرین اور مبصرین اسے فلسطینی عوام کے حقوق پر ایک کاری ضرب سے تعبیر کر رہے ہیں۔

یہ منصوبہ بظاہر دو ریاستی حل کے تصور کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کے عملی پہلو اس کے برعکس ہیں۔ یروشلم کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت قرار دینا فلسطینی عوام کے جذبات اور امنگوں کی نفی ہے، کیونکہ یہی شہر ان کی شناخت، تاریخ اور مذہب کا مرکز ہے۔ دوسری طرف مغربی کنارے میں موجود اسرائیلی بستیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ بستیاں وہ ہیں جنھیں عالمی برادری بھی غیر قانونی قرار دے چکی ہے، لیکن ٹرمپ امن منصوبہ انھیں باقاعدہ قانونی حیثیت دیتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امن منصوبے میں پیش کردہ فلسطینی ریاست کے ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل خودمختار اور مقتدر ریاست کے بجائے ایک محدود اختیارات کی حامل انتظامیہ ہوگی جس کی خارجہ پالیسی اور دفاعی امور اسرائیل اور امریکا کے زیرِ اثر رہیں گے۔

فلسطین اتھارٹی اسی قسم کی حکومت ہے جس کے سربراہ محمود عباس ہیں۔ فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی جانشین سیاسی جماعت پی ایل او فلسطین اتھارٹی کے زیر انتظام فلسطینی علاقوں کی حکمران ہے جب کہ غزہ پر حماس کا کنٹرول رہا ہے جو اسرائیل نے بزور قوت ختم کردیا ہے۔بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے ازالے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا، جو اس منصوبے کی ایک بڑی کمی سمجھی جارہی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ منصوبہ ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس میں فلسطینی عوام کو بظاہر ریاست کا نام تو مل جائے گا، لیکن عملی طور پر ان کی خودمختاری نہایت محدود ہوگی۔ حماس کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں جنھیں طے کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے حامی مسلسل کوشش کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دھمکی آمیز بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔

یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے لیکن اس کا دوسرا رخ بھی ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر اسے قبول کر لیا جائے تو خطے میں معاشی ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور روزگار کے نئے مواقع فلسطینی عوام کی مشکلات کم کر سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ تاہم ان سب وعدوں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ امن کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے، اور جب انصاف ہی مفقود ہو تو معاشی مراعات کسی بھی قوم کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔

 مسلم ممالک میں اس حوالے سے خاصے شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ فلسطینوں کی غالب اکثریت اس منصوبے کو اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے اور فلسطینی عوام کو مزید کمزور کرنے کی کوشش سمجھ رہی ہے۔ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتیں اور دائیں بازو کے خیالات کے حامل طبقے اس منصوبے کو یکسر مستر د کرتے ہیں اور اپنی حکومت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے کی حمایت نہ کرے ۔

ترکی اور ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو کھل کر رد کیا ہے، عرب لیگ نے بھی اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے برعکس قرار دیا تاہم وہ اس منصوبے کو رد نہیں کررہی ہے ۔ عرب ممالک دو ریاستی حل کے حامی نظر آتے ہیں۔ یورپی یونین نے نسبتاً محتاط موقف اپنا رکھا اور کہا ہے کہ امن منصوبے کے بعض نکات پر مزید غور کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسے مذاکرات کے لیے ایک ’’ابتدائی نکتہ‘‘ قرار دیا ہے، مجموعی طور پر مسلم دنیا میں عوامی سطح پر اس منصوبے کے خلاف غم و غصہ نمایاں نظر آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ اسی انداز میں نافذ کیا گیا تو خطے کا مستقبل کیا ہوگا؟ سب سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ فلسطینی عوام میں مزید مایوسی اور غصہ پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں انتفاضہ جیسی نئی تحریکیں ابھر سکتی ہیں۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی کے خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔

عرب ریاستوں اور مغربی طاقتوں کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوگی، اور مسلم دنیا میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ امریکا غیر جانب دار ثالث کے بجائے اسرائیل کا حمایتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں بھی امریکا اور یورپ کے بارے میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔

مسلم عوام پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک امریکا کے اتحادی ہیں، مسلم ممالک نے ہر مشکل وقت میں امریکا اور مغربی یورپ کا ساتھ دیا ہے لیکن انھوں نے جواب میں ایسا نہیں کیا۔ تنازعہ کشمیر ہو یا تنازعہ فلسطین امریکا اور یورپ نے اسرائیل اور بھارت کا ساتھ دیا ہے۔ اس لیے مسلم ممالک میں عوامی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو تاحال شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

ٹرمپ پلان بظاہر ایک امن منصوبہ ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر بہت سے ایسے پہلو ہیں جو انصاف اور برابری کے اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔ فلسطین کا مسئلہ محض زمین یا اقتدار کا نہیں بلکہ ایک قوم کی شناخت، مذہب اور بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔

اگر عالمی برادری اس پہلو کو نظرانداز کرتی رہی تو کوئی بھی منصوبہ دیرپا امن قائم نہیں کر سکتا۔ فلسطین کے تنازعے کا ایک ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، ان کی آزادی اور ان کے مستقبل کو مقدم رکھے۔ بصورت دیگر یہ منصوبہ بھی تاریخ کے صفحات میں محض ایک اور ناکام کوشش کے طور پر درج ہوگا، جیسے اس سے قبل بے شمار منصوبے دفن ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کا مسلم ممالک یہ منصوبہ منصوبے کو دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار