Express News:
2026-06-03@01:34:32 GMT

فلسطین کا امن منصوبہ: حقیقت یا فریب؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ سات دہائیوں پر محیط ایک ایسا المیہ ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور سفارت کاری کو اپنے دائرہ اثر میں لے رکھا ہے۔

ہر دور میں اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے گئے، مذاکرات کی میزیں سجی، قراردادیں منظور ہوئیں، مگر ایک پائیدار اور منصفانہ حل تاحال سامنے نہ آسکا۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا ہے، جسے انھوں نے بڑے دعوے اور فخر کے ساتھ ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ قرار دیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقوں میں غزہ میں امن کی جانب ایک نئی پیش رفت کہا جا رہا ہے جب کہ بیشتر عالمی ماہرین اور مبصرین اسے فلسطینی عوام کے حقوق پر ایک کاری ضرب سے تعبیر کر رہے ہیں۔

یہ منصوبہ بظاہر دو ریاستی حل کے تصور کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کے عملی پہلو اس کے برعکس ہیں۔ یروشلم کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت قرار دینا فلسطینی عوام کے جذبات اور امنگوں کی نفی ہے، کیونکہ یہی شہر ان کی شناخت، تاریخ اور مذہب کا مرکز ہے۔ دوسری طرف مغربی کنارے میں موجود اسرائیلی بستیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ بستیاں وہ ہیں جنھیں عالمی برادری بھی غیر قانونی قرار دے چکی ہے، لیکن ٹرمپ امن منصوبہ انھیں باقاعدہ قانونی حیثیت دیتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امن منصوبے میں پیش کردہ فلسطینی ریاست کے ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل خودمختار اور مقتدر ریاست کے بجائے ایک محدود اختیارات کی حامل انتظامیہ ہوگی جس کی خارجہ پالیسی اور دفاعی امور اسرائیل اور امریکا کے زیرِ اثر رہیں گے۔

فلسطین اتھارٹی اسی قسم کی حکومت ہے جس کے سربراہ محمود عباس ہیں۔ فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی جانشین سیاسی جماعت پی ایل او فلسطین اتھارٹی کے زیر انتظام فلسطینی علاقوں کی حکمران ہے جب کہ غزہ پر حماس کا کنٹرول رہا ہے جو اسرائیل نے بزور قوت ختم کردیا ہے۔بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے ازالے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا، جو اس منصوبے کی ایک بڑی کمی سمجھی جارہی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ منصوبہ ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس میں فلسطینی عوام کو بظاہر ریاست کا نام تو مل جائے گا، لیکن عملی طور پر ان کی خودمختاری نہایت محدود ہوگی۔ حماس کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں جنھیں طے کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے حامی مسلسل کوشش کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دھمکی آمیز بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔

یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے لیکن اس کا دوسرا رخ بھی ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر اسے قبول کر لیا جائے تو خطے میں معاشی ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور روزگار کے نئے مواقع فلسطینی عوام کی مشکلات کم کر سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ تاہم ان سب وعدوں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ امن کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے، اور جب انصاف ہی مفقود ہو تو معاشی مراعات کسی بھی قوم کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔

 مسلم ممالک میں اس حوالے سے خاصے شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ فلسطینوں کی غالب اکثریت اس منصوبے کو اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے اور فلسطینی عوام کو مزید کمزور کرنے کی کوشش سمجھ رہی ہے۔ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتیں اور دائیں بازو کے خیالات کے حامل طبقے اس منصوبے کو یکسر مستر د کرتے ہیں اور اپنی حکومت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے کی حمایت نہ کرے ۔

ترکی اور ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو کھل کر رد کیا ہے، عرب لیگ نے بھی اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے برعکس قرار دیا تاہم وہ اس منصوبے کو رد نہیں کررہی ہے ۔ عرب ممالک دو ریاستی حل کے حامی نظر آتے ہیں۔ یورپی یونین نے نسبتاً محتاط موقف اپنا رکھا اور کہا ہے کہ امن منصوبے کے بعض نکات پر مزید غور کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسے مذاکرات کے لیے ایک ’’ابتدائی نکتہ‘‘ قرار دیا ہے، مجموعی طور پر مسلم دنیا میں عوامی سطح پر اس منصوبے کے خلاف غم و غصہ نمایاں نظر آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ اسی انداز میں نافذ کیا گیا تو خطے کا مستقبل کیا ہوگا؟ سب سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ فلسطینی عوام میں مزید مایوسی اور غصہ پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں انتفاضہ جیسی نئی تحریکیں ابھر سکتی ہیں۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی کے خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔

عرب ریاستوں اور مغربی طاقتوں کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوگی، اور مسلم دنیا میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ امریکا غیر جانب دار ثالث کے بجائے اسرائیل کا حمایتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں بھی امریکا اور یورپ کے بارے میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔

مسلم عوام پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک امریکا کے اتحادی ہیں، مسلم ممالک نے ہر مشکل وقت میں امریکا اور مغربی یورپ کا ساتھ دیا ہے لیکن انھوں نے جواب میں ایسا نہیں کیا۔ تنازعہ کشمیر ہو یا تنازعہ فلسطین امریکا اور یورپ نے اسرائیل اور بھارت کا ساتھ دیا ہے۔ اس لیے مسلم ممالک میں عوامی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو تاحال شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

ٹرمپ پلان بظاہر ایک امن منصوبہ ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر بہت سے ایسے پہلو ہیں جو انصاف اور برابری کے اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔ فلسطین کا مسئلہ محض زمین یا اقتدار کا نہیں بلکہ ایک قوم کی شناخت، مذہب اور بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔

اگر عالمی برادری اس پہلو کو نظرانداز کرتی رہی تو کوئی بھی منصوبہ دیرپا امن قائم نہیں کر سکتا۔ فلسطین کے تنازعے کا ایک ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، ان کی آزادی اور ان کے مستقبل کو مقدم رکھے۔ بصورت دیگر یہ منصوبہ بھی تاریخ کے صفحات میں محض ایک اور ناکام کوشش کے طور پر درج ہوگا، جیسے اس سے قبل بے شمار منصوبے دفن ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کا مسلم ممالک یہ منصوبہ منصوبے کو دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار