پاس ہونے کیلئؤ 33 نہیں40نمبردرکار؛ میٹرک، انٹر کیلئے نئی پالیسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سٹی42: پاکستان میں میٹرک اور انٹرنیڈیٹ میں گریڈنگ کی نئی پالیسی اہم تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دی گئی ہے۔ آج نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا۔
میٹرک اور انٹر میں نئی گریڈنگ پالیسی سے جی پی اے کو خارج کر دیا گیا ہے اور اس نئی پالیسی کا دو ماہ بعد شروع ہونےوالےسال 2026 سے اطلاق ہونے کا نوٹیفکیشن آج جاری کر دیا گیا ہے۔
ملک کی کئی جامعات فی الحال جی پی اے کی بنیاد پر یونیورسٹیزمیں داخلہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، نئی گریڈنگ پالیسی سے جی پی اے کو خارج کر دیا گیا ہے۔
صنم جاوید کو گرفتار کرلیا گیا
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ آج منگل کے روز پاکستان بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے آفیشل کوآرڈینیشن فورم آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن) نے نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو مرحلہ وار آئندہ برس 2026 سے میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات کے لئے نافذ العمل ہو گی۔
اس نئی گریڈنگ پالیسی میں "جی پی اے اور سی جی پی اے" کا سسٹم بھی شامل تھا لیکن آج پالیسی کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن کیا گیا تو اس میں "جی پی اے اور سی جی پی اے" کا سسٹم شامل نہیں ہیں۔
سولر پاور کے بجلی نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
کراچی میں گزشتہ ماہ ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا اور فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب آئی بی سی سی نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جامعات کا کہنا ہے کہ نئی گریڈنگ پالیسی میں فی الوقت گریڈ پوائنٹ ایوریج کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس رائے سے تعلیمی بورڈز بھی متفق تھے لہذا اب نئی گریڈنگ پالیسی سال 2026 سے جی پی اے کے بغیر نافذ ہوگی۔
لاہور؛ سی سی ڈی کیساتھ مبینہ مقابلے میں 3 ملزمان مارے گئے
واضح رہے کہ آئی بی سی سی کے تحت نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی کہا گیا ہے کہ جی پی اے کا اطلاق ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کی جانب سے نئی گریڈنگ پالیسی کے اجرا تک روکا گیا ہے۔
نئی پالیسی میں U Grade انڈرگریڈ ہو گیا
ایسےسٹوڈنٹ جو اب کسی پرچے میں 40 سے کم نمبر حاصل کریں گے انھیں "یو" گریڈ دیتے ہوئے ungraded کہا جائے گا جبکہ اس سے قبل "یو" گریڈ کو غیراطمینان بخش گریڈ کہا گیا تھا۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی سے متعلق بڑی خبر آگئی
نئی پالیسی میں میٹرک اور انٹر میں تمام پرچوں کے پاس ہونے کے لئے درکار مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کر دیئے گئے ہیں۔
نئی پالیسی کے مطابق اب کیمبرج یونیورسٹی کے طریقہ کار کے طرح تمام مضامین کو علیحدہ علیحدہ گریڈ کیا جائے گا، پرانی(آج تک رائج) پالیسی میں 80 فیصد سے 100 فیصد تک مجموعی مارکس حاصل کرنے پر اے ون گریڈ دیا جاتا ہرہاے۔
اب 81 سے 100 مارکس تک "اے پلس" کی جگہ 4 مختلف گریڈز ہوں گے جس میں 96 سے 100 تک ایکسٹرا آرڈینری extra ordinary گریڈ یا اے ++ ، 91 سے 95 فیصد مارکس کے لئے ایکسیپشنل exceptional یا اے +گریڈ، 86 سے 90 فیصد مارکس لینے والوں کیلئے آؤٹسٹینڈنگ outstanding یا اے گریڈ اور 81 سے 85 فیصد تک نمبر حاصل کرنےوالےسٹوڈنٹس کے لئے ایکسیلنٹ excellent یا بی ++ گریڈ ہوگا۔
صرف 13 ہزار روپے ماہانہ میں ہونڈا موٹر سائیکل حاصل کریں
اس سے تھوڑے نمبر لینے الے سٹوڈنٹس کیلئے بی +، بی ، سی + ، سی ، ڈی اور یو گریڈ ہوں گے جنہیں بالترتیب فئیرFair, ویری گڈ Very Good، گڈ Good, , اوسط سے اوپر Aboce Average اور اوسط emerging, اور آخری درجہ کو ungraded کا نام دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 2026 میں یہ پالیسی ملک بھر میں نویں اور گیارھویں جبکہ 2027 میں دسویں اور بارھویں جماعتوں پر قابل اطلاق ہوگی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نئی گریڈنگ پالیسی میٹرک اور انٹر تعلیمی بورڈز نئی پالیسی پالیسی میں دیا گیا ہے پالیسی کے جی پی اے کے لئے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔