سکیورٹی فورسز کا اورکزئی میں آپریشن، مقابلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 11 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سکیورٹی فورسز کا اورکزئی میں آپریشن، مقابلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 11 جوان شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 8 October, 2025 سب نیوز
سکیورٹی فورسز کی جانب سے اورکزئی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، مقابلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 11 جوان شہید ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن 7 اور 8 اکتوبر کی درمیانی شب کیا گیا، آپریشن کے دوران 11 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ کارروائی بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے ٹھکانے پر کی گئی، سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں 19 بھارتی سرپرست خوارج ہلاک کیے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سیکنڈ ان کمانڈ میجر سمیت 11 جوان شہید ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسوئی ناردرن نے گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کر دی، پہلی ترجیح کون سے صارفین ہوں گے؟ جعفر ایکسپریس حادثہ پر بھارت کا گھناؤنا پروپیگنڈا بے نقاب غزہ میں جنگ بندی کا حقیقی امکان موجود ہے، صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی کمپنی کا پاکستان کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فروخت کرنے کا فیصلہ چین کا مقابلہ، امریکی محکمہ دفاع نے نیکسٹ جنریشن جنگی طیارے کی منظوری دے دی وزیراعظم کا دورہ ملائیشیا، دفتر خارجہ نے21 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 11 جوان شہید سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔