کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگرچہ دہلی پولیس نے 2000 کلو نقلی گھی کی کھیپ پکڑی ہے، لیکن اسکے پیچھے کون لوگ ہیں اسکا انکشاف ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں کھلے عام نقلی گھی، ملاوٹ شدہ مسالے، نقلی پنیر، کھویا اور دودھ سے بنی اشیاء کی فروخت براہِ راست دہلی کے شہریوں کی صحت پر اثر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے براہِ راست بی جے پی کی دہلی حکومت ذمہ دار ہے۔ ہریانہ کے جیند سے نقلی گھی کی سپلائی معروف کمپنیوں ملک فوڈ، مدھوسودن، امول، مدر ڈیری، پتنجلی، آنندا کے پیکٹس میں دہلی کے روہنی تک پہنچ رہی ہے۔ اس کے پیچھے بڑے ریکیٹ کا اندیشہ ہے جس کا نام سامنے آنا چاہیئے، کیونکہ ہریانہ اور دہلی دونوں میں بی جے پی کی حکومت ہے اور یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بی جے پی سرمایہ داروں کو تحفظ دینے والی پارٹی ہے۔

دیویندر یادو نے کہا کہ اگرچہ دہلی پولیس نے 2000 کلو نقلی گھی کی کھیپ پکڑی ہے، لیکن اس کے پیچھے کون لوگ ہیں اس کا انکشاف ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا "میں نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال کیا ہے کہ دہلی حکومت کا خوراک و رسد سیکورٹی محکمہ آخر کیا کر رہا ہے، جب دہلی میں کھلے عام ملاوٹ شدہ گھی، مسالے، پنیر اور دودھ سے بنی دیگر اشیاء بازاروں میں فروخت ہو رہی ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ 2 ہفتے قبل نوراتری کے دوران ملاوٹ شدہ کُٹّو کے آٹے سے بُراری جہانگوری علاقے میں تقریباً 200 لوگوں کو اسپتال جانا پڑا تھا، تب بھی کانگریس پارٹی نے دہلی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ آنے والے تہواروں میں ملاوٹ شدہ غذائی اشیاء پر سختی سے روک لگائی جائے تاکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ نہ ہو۔ لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور دہلی میں بڑے پیمانے پر ملاوٹ شدہ گھی، تیل، پنیر اور دیگر اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔

دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ ملاوٹ شدہ اور جعلی سامان کا بازار میں دستیاب ہونا ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت یہ جانتی ہے کہ تہواروں کے موسم میں ملاوٹ شدہ گھی، پنیر، کھویا، جعلی مسالے اور دیگر اشیاء کی فروخت بڑھ جاتی ہے، تو پہلے سے اقدام کیوں نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی کے بازاروں میں اتنی بڑی مقدار میں نقلی گھی دستیاب ہے، تو اس کے لئے سیدھے طور پر بی جے پی کی دہلی حکومت ذمہ دار ہے۔ دیویندر یادو کے مطابق حکومت کو چاہیئے کہ ملاوٹ شدہ اور نقلی اشیاء کے کاروبار چلانے والے سنڈیکیٹ کے خلاف سخت قوانین بنائے۔ جب تک سخت قوانین نہیں بنیں گے، تب تک نقلی سامان کے تاجروں پر لگام نہیں لگائی جا سکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ دیویندر یادو دہلی حکومت ملاوٹ شدہ نقلی گھی بی جے پی

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان