عمران خان، گنڈاپور کا فیصلہ کئی ہفتے پہلے کرچکے تھے، آخری ملاقات انتہا کو پہنچی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
عمران خان کئی ہفتے قبل ہی علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کافیصلہ کر چکے تھے لیکن علی امین سے ان کی آخری ملاقات میں حالات انتہا کو پہنچے جس میں انہوں نے علیمہ خان پر سنگین الزامات لگائے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے 30ستمبر کو ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ تحریک انصاف گروپ بندی اور عمران خان کو مائنس کرنے میں علیمہ خان کا اہم کردار رہا ہے، علیمہ خان کو پارٹی چیئرپرسن بنانے کیلئے مہم چلائی جارہی ہے، علی امین گنڈا پور نے علیمہ خان پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایم آئی کی ایجنٹ ہیں۔ البتہ عمران خان سے ملاقات کے بعد انہوں نے خاموشی اختیار کی تھی تاہم عمران خان نے اپنی بہن کو تمام الزامات سے آگاہ کیا، علیمہ خان نے جیل سے باہر آکر میڈیا کو اس حوالے آگاہ کیا جس پر علی امین بھی کھل کر سامنے آگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔