اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار، انڈیکس 736 پوائنٹس مزید گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان غیر حتمی مذاکرات کے باعث منافع کے حصول کے لیے فروخت کو ترجیح دی۔
آج کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے دوران بلند ترین سطح 166,729.
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
تاہم، سیشن کے دوران اتار چڑھاؤ برقرار رہا اور آخری گھنٹوں میں منافع کے حصول کے دباؤ کے باعث انڈیکس کم ہو کر 164,306.76 پوائنٹس تک آگیا۔
Market Close Update: Negative Today! ????
???????? KSE 100 ended negative by -735.9 points (-0.45%) and closed at 164,530.8 with trade volume of 698.9 million shares and value at Rs. 37.08 billion. Today's index low was 164,307 and high was 166,730. pic.twitter.com/iwXlN63NDw
— Investify Pakistan (@investifypk) October 9, 2025
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 735.94 پوائنٹس یا 0.45 فیصد کمی کے ساتھ 164,530.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ فی الوقت ایک شدید سرگرمی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مرکزی بینک، فنڈز اور ریٹیل سرمایہ کار سب سرگرم ہیں، ایسے میں کوئی بھی اپنی کامیاب پوزیشن فروخت کرنے کو تیار نہیں، جس سے مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔
رواں برس کے دوران سونے کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ اب 4500 ڈالر کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، انڈیکس 907 پوائنٹس گر گیا
چاندی بھی 2011 کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے اور اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو مزید اضافہ ممکن ہے۔
تاہم، دن کے دوران منافع کی بکنگ کے آثار نمایاں ہیں جو مستقبل میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت اور لچک و پائیداری سہولت کے تحت جائزہ مذاکرات کے بعد اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے قریب پہنچنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق، پاکستانی حکام اور فنڈ کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی انتظام اور 28 ماہ کے لچک و پائیداری پروگرام کے جائزوں میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔
پروگرام کا نفاذ مضبوط ہے اور حکام کے وعدوں کے مطابق جاری ہے۔
عالمی سطح پر، اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے، جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں دو سال سے جاری خونریز جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار، انڈیکس 1200 پوائنٹس گر گیا
واضح رہے کہ گزشتہ ر وز یعنی بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی رہی اور ادارہ جاتی فروخت کے باعث ابتدائی بہتری دم توڑ گئی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 907 پوائنٹس کمی کے ساتھ 165,266.75 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی منڈیوں میں جمعرات کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے نئی بلندیاں حاصل کیں، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص میں سرمایہ کاری بڑھا دی۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 69 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
سونا 4000 ڈالر کی سطح پر برقرار رہا جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی منصوبے پر پیش رفت نے جغرافیائی کشیدگی کو کچھ کم کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں مصر کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ معاہدے کے اگلے مراحل پر بات چیت کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئی ایم ایف اسٹاف لیول ایگریمنٹ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈونلڈ ٹرمپ غزہ مشرق وسطیٰ مندی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس ا ئی ایم ایف پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈونلڈ ٹرمپ اسٹاک ایکسچینج میں اسٹاک مارکیٹ کے درمیان کے دوران ایم ایف
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔