وزیراعظم شہباز نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر فیصلہ کن کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو ساری محنت رائیگاں جائے گی۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دو ہفتوں میں اہم واقعات گزر چکے ہیں، گزشتہ روز راولپنڈی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، اعلیٰ افسران اور جوانوں کے ساتھ  میں نے اورکزئی میں شہید ہونے والے لیفٹننٹ کرنل جنید، میجر طیب اور 9 جوانوں کا جنازہ پڑھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ لیفٹننٹ کرنل جنید نے بہادری کی تاریخ رقم کی، انہوں نے فرنٹ سے قیادت کی اور فتنہ خوارج کے 19 لوگوں کو ہلاک کیا جبکہ خود اور باقی دس ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پھر آج صبح دوبارہ میجر سبطین حیدر کے جنازے میں شریک ہوا وہ فتنہ الخوارج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ شہدا کے والدین، بھائیوں اور بہنوں سے ملاقات ہوئی تو ہر ایک نے اپنے انداز میں کہا ہمارے بیٹے نے ملک کیلیے جان دی، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ہمیں فخر ہے کہ اُس نے وطن کی خاطر جان قربان کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات ہر روز ہورہے ہیں، جس میں انتہائی قیمتی جانیں قربان کی جارہی ہیں، ایک شہید کا بیٹا اور دو بیٹیاں جبکہ میجر صاحب کی ایک بیٹی یتیم ہوگئی، شہدا اپنے بچوں کو یتیم کر کے لاکھوں بچوں کے والدین کو بچا رہے اور دنیا سے کوچ کررہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ستم ظریفی یہ کہ دہشت گردوں کو تحفظ دیا جاتا ہے، خوراج ہمسایہ ملک سے آکر دہشت گردی کرتے ہیں جبکہ دوست نما دشمن ان کیلیے تعریفی کلمات کہتے ہیں، جس ملک نے انہیں عزت دی وہ اُس کے خلاف دشمنی کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ شہدا نے اپنے خون سے یہ لکیر کھینچ دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ لڑنا اور ملک کو بچانے کیلیے لڑنا ہے، اب اس لکیر کو کوئی پامال نہیں کرسکتا اور اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت، صوبائی حکومتیں، وزرا، پارلیمنٹ، افسران، جو محنت کررہے ہیں یہ رائیگاں جاسکتی ہے، اب بس بہت ہوگیا ہمیں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا، اس کا مزید انتظار نہیں کرسکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک پوری قوم سوچ رہی ہے یہ کیا ہورہا ہے، سفارتی اور معاشی میدان میں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں، ہندوستان کیخلاف اللہ نے عظیم فتح نصیب کروائی مگر اب یہ دہشت گرد ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر اب آگ اور پانی کا کھیل نہیں چل سکتا، ہمیں دہشت گردی کے خاتمے کیلیے ٹھوس فیصلے کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ شہدا ہماری عزت و وقار اور ماتھے کا جھومر ہیں، ہمیں ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا، اگر بھلایا تو یہ بدترین خیانت ہوگی، دہشت گردوں کے سہولت کار اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، اگر ہم نے اس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات نہ اٹھائے تو قوم اور اللہ تعالیٰ ہمیں معاف نہیں کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سپہ سالار کی سوچ اور عزم جوان ہے، قوم ہمیشہ کیلیے خوارج کے خاتمے کیلیے یکسو ہیں۔

فلسطین کے مؤقف پر کبھی جھول نہیں آیا، وزیراعظم

کابینہ اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں غزہ اور فلسطین کے حوالے سے چوبیس کروڑ عوام، سیاسی جماعتوں کے ایک ہی مؤقف ’غزہ میں فی الفور جنگ بندی، فلسطینیوں کو حق خوداردیت‘ کو آگے بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک مٹینگ بلائی، 57 اسلامی ممالک میں سے 8 اسلامی ممالک تھے جس میں پاکستان بھی شامل تھا، یہ اُس محنت کا نتیجہ ہے جو شبانہ روز ہورہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کو بہتر بنانے اور قرضوں سے نجات کیلیے محنت ہورہی ہے، بھارت کی شکست فاش سے پاکستان کی عزت دنیا کے نقشے پر ابھر کر آئی ہے، قوم، فوج اور سپہ سالار، کابینہ اس پر مبارک باد کی مستحق ہے۔

شہباز شریف نے بتایاکہ انہوں نے ٹرمپ کا قوم کی طرف سے جنگ بندی پر شکریہ ادا کیا جبکہ امریکی صدر نے غزہ فی الفور جنگ بندی پر مدد مانگی اور بتایا کہ اسرائیل کو خبردار کردیا کہ مغربی حصہ کبھی قبضہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سیز فائر کے حوالے سے گفت و شنید ہورہی تھی اور اب پہلے مرحلے پر اتفاق ہونے کے بعد غزہ میں امن کی طرف قدم بڑھیں گے، پاکستان نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل بھی تھے، ٹرمپ سے اچھی ملاقات ہوئی، باہمی تعلقات، ٹریڈ اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بات ہوئی، ہم نے اسرائیل کی نسل کشی اور اقدامات کی مذمت کی اور اپنا آزاد فلسطین کا دیرینہ مؤقف دہرایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ اور قابل قدر دوست ہے، ٹرمپ کے ساتھ چینی صدر کا مشکور ہے
قیامت تک چین کے کردار کو نہیں بھلایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے ہمارے برادرانہ روابط صدیوں سے ہیں، دفاعی معاہدہ ایک فارمل تعلقات کا عکاس ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک برادر ممالک ہیں ایک پر حملہ دوسرے پر تصور ہوگا۔

آزاد کشمیر

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا، جس پر رانا ثنا، فضل، امیر مقام، سردار یوسف قمر زمان احسن اقبال کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کشمیری بھائی بہن ہمارے سروں کے تاج ہیں، اُن کی ترقی اور خوشحالی ہماری ذمہ داری ہے، اُن کے مطالبات اور معاملات کو جلد حل کریں گے۔

ملائیشیا کا دورہ

وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا میں انور ابراہیم نے جو پاکستان سے جس محبت کا اظہار کیا وہ ناقابل بیان ہے، ہوٹل پہنچا تو وہ دروازے پر تھے، دورے کے دوران دو سو ملین ڈالر ہلال گوشت کا معاہدہ طے ہوا ہے،

وزیراعظم نے کاہ کہ ہم اپنی منزل کو جلد پہنچیں گے، بلوم برگ کی رپورٹ میں پاکستان کو دوسری ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیا گیا ہے، یہ شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے، اس پر متعلقہ وزارتوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے دہشت گردی کے کررہے ہیں

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا