مکہ مکرمہ؛ منشیات اسمگلنگ پر پاکستانی شہری کو سرِعام سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سعودی عرب میں ایک پاکستانی تارکین وطن کو منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں دی گئی سزائے موت پر آج عمل درآمد کردیا گیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق پاکستانی شہری کو سزائے موت مکہ مکرمہ میں دی گئی۔ یہ سزا پہلے مجاز عدالت نے سنائی تھی اور سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔
مجرم کی شناخت شیراز خان ولد نادر خان کے نام سے ظاہر کی گئی۔ یہ تصدیق بھی کی گئی کہ مجرم کو ہر قسم کی قانونی معاونت اور مدد تک رسائی دی گئی۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستانی شہری کو کس طریقے سے سزائے موت دی گئی۔ سعودی عرب میں زیادہ تر سر قلم کیا جاتا ہے یا پھر فائرنگ اور کچھ کیسز میں سولی پر بھی لٹکایا جاتا ہے۔
آج ہی دمام شہر میں بھی ایک سعودی شہری کو دہشت گردی، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، جج کے اغوا و قتل اور تیل کی تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش پر سزائے موت دی گئی۔
سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سزائے موت کی شرح بلند ہے، اور ان کیسز میں بڑی تعداد پاکستانی تارکین وطن کی بھی شامل رہی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی شہریوں کو سزائے موت کی شرح سالانہ 15 سے زائد بنتی ہے جن میں کیسز منشیات کی اسمگلنگ، قتل، چوری اور مذہبی حدود کے تحت ہوتے ہیں۔
سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کو انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے جس پر براہ راست سزائے موت نافذ ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی شہری سزائے موت شہری کو
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی