اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اب ایک بھگوڑے، اشتہاری مراد سعید کے قریبی ساتھی، جو دہشتگردی کے لیے بھی نرم گوشہ رکھنے والے سہیل آفریدی ہیں، انہیں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کو مکمل طور پر اسپورٹ کرنے اور انہیں مکمل سہولت کاری دینے کے لیے لایا گیا ہے، ہم یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دہشتگردوں کی سہولت کاری نہ کرنے پر ہٹایا اور سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کی سہولتکاری کے لیے لایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ تحریکِ انصاف کا پورا انتشاری ٹولہ دہشتگردوں کا سہولت کار ہے، عمران خان کے پرانے بیانات دیکھیں تو وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ بڑے اچھے لوگ ہیں، ان سے بات چیت کرنی چاہیے اور انہیں واپس لا کر بسانا چاہیے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دورِ حکومت میں دہشتگردوں کو لا کر بسایا، انہیں بحفاظت واپس لایا اور رہنے سہنے کی جگہ دی، آج بھی خیبر پختونخوا کی سیاست اسی چیز کے اردگرد گھوم رہی ہے، علی امین گنڈا پور سے بھی رنجش یہ تھی کہ وہ دہشتگردوں کی ٹھیک طرح سے سہولت کاری نہیں کر پا رہے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو کہا جاتا تھا کہ تم دہشتگردوں کی سہولت کاری کرو، انہیں پورا سپورٹ کرو، لیکن علی امین گنڈاپور، عمران خان کا یہ مشن پورا نہیں کر سکے، اس لیے انہیں ہٹا دیا گیا۔ اب ایک بھگوڑے، اشتہاری مراد سعید کے قریبی ساتھی، جو دہشتگردی کے لیے بھی نرم گوشہ رکھنے والے سہیل آفریدی ہیں، انہیں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کو مکمل طور پر اسپورٹ کرنے اور انہیں مکمل سہولت کاری دینے کے لیے لایا گیا ہے، ہم یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے، کی پی حکومت اور تحریک انصاف کو واضح طور پر بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی پالیسی اسلام آباد میں بنتی ہے اور بنتی رہے گی، پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کابل میں نہیں بنے گی۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پچھلے 12 سال سے آپ کی حکومت کے باوجود صوبے میں دہشت گردی عروج پر ہے، سیکیورٹی فورسز کے جوان اور افسران روز قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ دہشتگردوں اور عوام کے درمیان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں، ان کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ دہشتگرد کبھی بھی غلبہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ لندن کی عدالت کے فیصلے سے پی ٹی آئی کا بیانیہ پٹ گیا، یہ کس منہ سے اب دنیا کے مختلف کونوں میں بیٹھے انتشار پسند ریاست پاکستان یا فوج کے خلاف بات کریں، اس فیصلے کے بعد ان کے پاس کوئی جواز نہیں بچا، پاکستان سمیت لندن کی عدالتوں میں بھی انہیں شکست ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عطااللہ تارڑ نے کہا دہشتگردوں کی سہولت کاری وفاقی وزیر نے کہا کہ علی امین

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار