سندھ ہائیکورٹ میں طلبہ یونین انتخابات کیس کی سماعت، سرکاری وکلا نے مہلت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کی میڈیکل جامعات میں طلبہ یونین انتخابات سے متعلق درخواست پر سماعت،جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرادیا عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کاکہنا تھا کہ اسٹوڈنٹ کونسل جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں کام کررہی ہے،اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن کے طریقہ کار سے متعلق کام جاری ہے ،یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اور سینیٹ میں طلبہ یونین کے نمائندگی سے متعلق قانون جے ایس ایم یو ایکٹ میں ترمیم کے لیے محکمہ قانون کو لکھا ہے،درخواست گزار کے وکیل کاکہنا تھا کہ سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین انتخابات سے متعلق فروری 2022 میں قانون منظور کیا تھا، ساڑھے تین سال کا عرصہ گزر گیا، اب تک انتخابات کا انعقاد نہیں ہوا، ڈاؤ یونیورسٹی اور کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے وکلا نے جواب جمع کرانے کے لئے مہلت طلب کی عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل دیگر جامعات کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا،عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کردی،درخواست گزار نے طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کی استدعا کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلبہ یونین
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔