جنگ بندی کی نگرانی، امریکی فوجی دستہ غزہ جانے کیلیے تیار، عرب میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ تقریباً 200 فوجی اہلکاروں کو اسرائیل بھیج رہا ہے، جو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی نگرانی، انسانی امداد کی فراہمی اور سیکیورٹی و لاجسٹک تعاون کے لیے قائم کیے جانے والے سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کا حصہ ہوں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی سربراہی میں یہ کوآرڈینیشن سینٹر اسرائیل میں قائم کیا جائے گا، جہاں سے غزہ میں انسانی امداد، تعمیر نو اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کی جائے گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن میں صرف امریکی فوجی ہی شامل نہیں ہوں گے بلکہ شریک ممالک، غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) اور نجی شعبے کے ماہرین بھی اس ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق امریکی فوجی براہ راست غزہ میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ اسرائیل میں رہتے ہوئے نقل و حمل، سیکیورٹی، منصوبہ بندی، لاجسٹکس اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں معاونت فراہم کریں گے۔
ایک اور امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ فوجی دستہ دنیا کے مختلف حصوں سے آرہا ہے اور ان کی آمد کا عمل جاری ہے۔ یہ اہلکار آئندہ چند دنوں میں سینٹر کے قیام کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی شروع کر دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوں گے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔