غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے مصر جاؤں گا: امریکی صدر
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی سات بڑی جنگیں ختم کروا چکے ہیں اور اب آٹھویں جنگ، یعنی غزہ کی جنگ، بھی ان کی کوششوں سے اختتام کو پہنچی ہے، ہم نے غزہ جنگ ختم کروا دی، یہ دنیا کی آٹھویں جنگ تھی جسے میں نے روکا۔”
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے پر فریقین کے اتفاق کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ دراصل اس امن معاہدے تک پہنچنے کا ایک ضروری قدم تھا۔ ان کے بقول، مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک اس منصوبے کی حمایت کر رہے تھے اور اب خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ غزہ امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کے لیے مصر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں سے ممکنہ طور پر وہ اسرائیل کا دورہ بھی کریں گے، غزہ کی پٹی کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، ایران اب امن کے لیے کام کرنا چاہتا ہے اور ہم اس سلسلے میں اس کے ساتھ تعاون کریں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ پیر یا منگل تک اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہے، اور اس کے بعد غزہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ مصر میں امریکی صدر کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان ابتدائی مرحلے میں اتفاق ہو چکا ہے۔ معاہدے کے مطابق، چند روز کے لیے جنگ بندی نافذ کی جائے گی جس کے دوران امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت 72 گھنٹوں کے اندر حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کرے گی، جب کہ بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ امریکی صدر کے بقول، یہ پہلا قدم خطے میں ایک نئے “مستقل امن” کی بنیاد ثابت ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ اعلان انتخابی مہم سے قبل ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کو امن معاہدے کے ساتھ جوڑنا ایک متنازع دعویٰ ہے جس کے اثرات خطے میں دیرپا ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر امن معاہدے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔