اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سابق سینیٹر مشتاق احمد بحرین سے اسلام آباد پہنچ گئے۔ استقبال کے لئے سینکڑوں شہری ایئرپورٹ پہنچے جہاں لوگ فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ شہریوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور فلسطینی جھنڈے لہرائے۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اردن کے نائب وزیراعظم کو فون کیا اور سابق سینیٹر مشتاق احمد کی عمان واپسی میں اردن کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔ مشتاق احمد خان نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ تیونس سے مقبوضہ فلسطین کی بندرگاہ تک 20 دن  کا سمندری سفر کیا۔ سفر اور پھر جیل میں 3 دن بھوک ہڑتال کی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم کا شکریہ  کہ انہوںنے اپنا جھنڈا بھی ہمیں دیا۔ اسرائیلی فوجی بس کاغذی شیر ہیں۔ اسرائیلی فوج کو ہماری 50 کشتیاں پکڑنے میں 12 دن لگے۔ کشتی سے اتارنے کے بعد ہمیں اسرائیلی اہلکار بندرگاہ لے گئے۔ مجھ سے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔ بتایا کہ پاکستان سے‘ تو اسرائیلی فوجی نے گالی دی۔ ہمارے قافلے میں ہر مذہب اور قوم کا شخص موجود تھا۔ صمود فلوٹیلا میں یہودی بھی شامل تھے۔ مذاکرات حماس کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔ نیلسن منڈیلا کے پوتے کے ساتھ سیل میں رہا یہ بھی میرے لئے اعزاز ہے۔ گریٹا اور فلوٹیلا میں شامل تمام خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دوں گا۔ غزہ میں جنگ بندی نہ ہوئی‘ نسل کشی نہ روکی گئی تو دوبارہ جائیں گے۔ مطالبہ کروں گا کہ ہمیں کراچی کی بندرگاہ سے جانے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان میں ایک لاکھ پاک فلسطین کمیٹیاں بناؤں گا۔ حافظ نعیم میرے لئے آج بھی محترم ہیں۔ ضروری نہیں کوئی پارٹی چھوڑے تو جھگڑے کے ساتھ چھوڑے۔ میں کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوں گا۔ مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دینے کی بھی تصدیق کی۔  فلوٹیلا پر سفر کے دوران 19 ستمبر کو اپنا استعفیٰ بھیجا‘ تاہم اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ میں چاہتا ہوں کہ میں کھل کر انسانی حقوق‘ جمہوریت‘ آزاد میڈیا‘ ڈاکٹر عافیہ‘ فلسطین اور فیڈریٹنگ یونٹس کے دستوری حقوق کی جدوجہد کروں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں علی وزیر اور ماہ رنگ بلوچ اور منظور پشین سے ملنے جانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ عمران خان کا فری ٹرائل کیا جائے۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ جس رات میں نے استعفیٰ دیا اس رات اسی طرح رویا جس طرح اپنی والدہ کی وفات پر رویا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مشتاق احمد

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم