شناختی کارڈ بنوانے کا طریقہ کار تبدیل، عوام کیلئے اہم خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: نادرا نے اپنی جدید پاک آئی ڈی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے شناختی کارڈ سمیت دیگر دستاویزات کے حصول کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا، جس کے بعد اب شہریوں کو نادرا دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہی۔
ترجمان نادرا سید شباہت علی نے بتایا کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ نے عوام کیلئے شناختی خدمات کا طریقہ کار بدل کر رکھ دیا ہے۔ شہری اب گھر بیٹھے اپنے شناختی کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور دیگر دستاویزات کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔
کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لاکر لگائے گئے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
انہوں نے کہا کہ صرف تین ماہ کے دوران 12 لاکھ سے زائد درخواستیں پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے موصول ہوئی ہیں، جبکہ ایپ کو اب تک ایک کروڑ سے زیادہ شہری ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ یہ ایپ اب ملک کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی قابل اعتماد عوامی سروسز میں شمار کی جا رہی ہے۔
سید شباہت علی کے مطابق شہری اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق، دستاویزات اپ لوڈ اور درخواست کی براہ راست ٹریکنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس ایپ کے ذریعے روزانہ اوسطاً 10 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے جا رہے ہیں، جس سے عوامی سہولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کیلئے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، جانئے درخواست کیسے دیں
ترجمان نادرا نے مزید کہا کہ پاک آئی ڈی ایپ کی بدولت نادرا کو ڈیجیٹل درخواستوں میں 45 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ڈیجیٹل شناختی نظام پر تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
نادرا کی یہ نئی ڈیجیٹل سہولت پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ای گورننس کی سمت ایک اہم قدم آگے لے جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاک آئی ڈی کے ذریعے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔