اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر ممکنہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے تفصیلی ٹریفک ڈائیورشن پلان جاری کر دیا ہے۔

ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ اگلے حکم تک بند رہے گا، جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے مختلف متبادل راستے تجویز کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فیض آباد کے چاروں اطراف سے ٹریفک کے بہاؤ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اہم ڈائیورشن پوائنٹس درج ذیل ہیں:

راول ڈیم چوک سے فیض آباد کی جانب دونوں اطراف ٹریفک بند ہوگی۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی احتجاج کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد میں تعلیمی ادارے بند، انتظامیہ کا تاخیر سے اعلان

بہارہ کہو، مری اور اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے شہری پارک روڈ، کیپٹن نعیم طفیل شہید چوک (ترامری)، لہتراڑ روڈ اور ایکسپریس ہائی وے استعمال کریں۔ ائیرپورٹ جانے والے کشمیر چوک اور سری نگر ہائی وے کا رخ کریں۔

گارڈن فلائی اوور اور کھنہ پل سے فیض آباد جانے والی ٹریفک کے لیے بھی ڈائیورشن دی گئی ہے۔ کورال سے آنے والے لہتراڑ روڈ اور پارک روڈ استعمال کریں۔

نائنتھ ایونیو اور آئی جے پی روڈ سے فیض آباد جانے والی ٹریفک کو بھی متبادل راستوں پر موڑا گیا ہے۔ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سری نگر ہائی وے، راول ڈیم چوک، پارک روڈ، اور گولڑہ موڑ کے راستے راولپنڈی یا اسلام آباد آمد و رفت کریں۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی مارچ، اسلام آباد کے راستوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق ایف ایٹ، ایف نائن، ایف ٹین، ایف الیون، جی ٹین، جی الیون اور دیگر سیکٹرز کے رہائشی سری نگر ہائی وے براستہ گولڑہ موڑ راولپنڈی جا سکتے ہیں۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ٹریفک اپڈیٹس کے لیے آئی ٹی پی ریڈیو 92.

4 ایف ایم یا اسلام آباد ٹریفک پولیس کے واٹس ایپ چینل سے رہنمائی حاصل کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ترجمان ٹریفک پولیس ٹریفک ڈائیورشن پلان جاری ٹی ایل پی فیض آباد ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند،

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ترجمان ٹریفک پولیس ٹی ایل پی فیض آباد ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ٹریفک پولیس اسلام آباد فیض آباد ہائی وے کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت