کراچی میں اِی ٹکٹنگ کا سلسلہ 27 اکتوبر سے شروع ہوگا، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اِی چالان کا سلسلہ 27 اکتوبر سے بھرپور طریقے سے شروع کیا جائے گا۔
س سلسلے میں سیف سٹی پروگرام اور ٹریفک پولیس کا عملہ باہمی منصوبہ بندی سے پروگرامنگ پر کام کر رہا ہے
جنگ سے بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان کرنے کا سلسلہ ٹیکنیکل بنیادوں پر روکا گیا ہے۔
غلام نبی میمن نے بتایا کہ چالان مشینیں فراہم اور جرمانے جمع کرنے والی کمپنی کے ساتھ 10 سالہ معاہدہ 30 ستمبر کو ختم ہوا ہے۔ مذکورہ کمپنی یا کسی اور ادارے سے اگلے عرصے کا معاہدہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ چند ہفتوں میں سیف سٹی پروگرام کے تحت اِی ٹکٹنگ کا سلسلہ شروع کیا جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر چند ہفتے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان نہیں ہوں گے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ابھی بھی اِی چالان کیے جا رہے ہیں مگر وہ ڈمی پراسس ہے، یہ چالان شہریوں کو ارسال نہیں کیے جارہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں بلا تفریق اِی ٹکٹنگ کا سلسلہ 27 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے افتتاح کے بعد شروع ہوگا جس سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں واضح طور پر کمی واقع ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں غلام نبی میمن نے بتایا کہ اِی ٹکٹنگ پر شکایات کے ازالے کے لیے ایس پی، ڈی ایس پی اور سی پی ایل سی کے نمائندے پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے اگر کسی کو کسی چالان پر شکایت ہوگی تو وہ اپنی درخواست کے ساتھ مذکورہ چالان کمیٹی میں جمع کرائیں گے جس پر ازالہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ا ی ٹکٹنگ کا سلسلہ
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔