فائل فوٹو

انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اِی چالان کا سلسلہ 27 اکتوبر سے بھرپور طریقے سے شروع کیا جائے گا۔ 

س سلسلے میں سیف سٹی پروگرام اور ٹریفک پولیس کا عملہ باہمی منصوبہ بندی سے پروگرامنگ پر کام کر رہا ہے

جنگ سے بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان کرنے کا سلسلہ ٹیکنیکل بنیادوں پر روکا گیا ہے۔ 

غلام نبی میمن نے بتایا کہ چالان مشینیں فراہم اور جرمانے جمع کرنے والی کمپنی کے ساتھ 10 سالہ معاہدہ 30 ستمبر کو ختم ہوا ہے۔ مذکورہ کمپنی یا کسی اور ادارے سے اگلے عرصے کا معاہدہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ چند ہفتوں میں سیف سٹی پروگرام کے تحت اِی ٹکٹنگ کا سلسلہ شروع کیا جانا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر چند ہفتے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان نہیں ہوں گے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ 

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ابھی بھی اِی چالان کیے جا رہے ہیں مگر وہ ڈمی پراسس ہے، یہ چالان شہریوں کو ارسال نہیں کیے جارہے۔ 

انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں بلا تفریق اِی ٹکٹنگ کا سلسلہ 27 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے افتتاح کے بعد شروع ہوگا جس سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں واضح طور پر کمی واقع ہوگی۔ 

ایک سوال کے جواب میں غلام نبی میمن نے بتایا کہ اِی ٹکٹنگ پر شکایات کے ازالے کے لیے ایس پی، ڈی ایس پی اور سی پی ایل سی کے نمائندے پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے اگر کسی کو کسی چالان پر شکایت ہوگی تو وہ اپنی درخواست کے ساتھ مذکورہ چالان کمیٹی میں جمع کرائیں گے جس پر ازالہ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ا ی ٹکٹنگ کا سلسلہ

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟