تحریک لبیک کے ممکنہ احتجاج سے قبل راولپنڈی مکمل سیل، داخلی و خارجی راستے بند
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی ایک بار پھر مکمل طور پر کنٹینر سٹی میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے شہر کے اندر اور باہر کے تمام اہم راستوں پر کنٹینرز، ٹرالرز اور بڑی رکاوٹیں کھڑی کر کے آمدورفت کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق شہر کے 37 مقامات کو ’’بلاکنگ پوائنٹس‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ مری روڈ، فیض آباد، شمس آباد، موتی محل چوک، پنڈورہ چونگی، آئی جے پی روڈ، کھنہ پل اور چک مدد سمیت تمام مرکزی شاہراہیں بند ہیں۔ اسلام آباد سے ملانے والے تمام داخلی راستے بھی بند کیے جا چکے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا ریلی کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
جی ٹی روڈ پر بھی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ٹیکسلا چوک، براہمہ انٹرچینج، فتح جنگ ٹول پلازہ، چک بیلی موڑ، گوجرخان اور مندرہ ٹول پلازہ سمیت متعدد مقامات پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی شہر کے اہم مقامات، جیسے کلمہ چوک، رحیم آباد، گلزار قائد، سواں پل اور اڈیالہ روڈ پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چھ ہزار سے زائد اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ تمام تھانوں میں 37 چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاں اینٹی رائٹ فورس مکمل تیار حالت میں موجود ہے۔
اہلکاروں کو آتشیں اسلحہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، البتہ ایس پی سطح یا اس سے بالا افسران کو مسلح رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ باقی اہلکاروں کو آنسو گیس گنز، ربڑ بلٹس اور 12 بور گنز فراہم کی گئی ہیں۔
سی پی او خالد ہمدانی خود کمانڈ اینڈ کنٹرول کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ مری روڈ پر شالیمار چوک سے فیض آباد تک پولیس کی 13 خصوصی ٹیمیں اور روف ٹاپ اسنیپرز بھی تعینات ہیں۔ کسی بھی اجتماع، جلسے یا احتجاج پر دفعہ 144 کے تحت چار روز کے لیے پابندی عائد ہے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر میٹرو بس سروس معطل کر دی ہے اور تمام اسٹیشنز پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر بند ہے جس سے شہریوں، طلبہ اور دفتری ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم کینٹ کے اندرونی علاقوں میں معمول کے مطابق ٹریفک جاری ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اقدامات اپنی جگہ مگر پورے شہر کو کنٹینرز سے بند کر دینا روزمرہ زندگی کو اذیت ناک بنا دیتا ہے۔ اسکول، دفاتر اور اسپتال جانے والوں کو میلوں پیدل چلنا پڑ رہا ہے جب کہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔