قوم کو پانچواں مارشل لا بہت بہت مبارک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نعمان طارق انصاری
اس بد نصیب قوم کے لیے 27 ویں ترمیم کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے اور عملًا یہ پانچواں مارشل لا ہی ہے جس نے قوم کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب قوم کو اس نئے نظام کے تحت زندگی گزارنے کی عادت ڈال لینی چاہیے اب طاقت کے مراکز ایک مہاراجا کے روپ میں سامنے آئے ہیں اور ان کے دربار میں سارے سیاستدان ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے ہیں یہ وہ سیاستدان ہیں جن کو سیاستدان کہنا بھی اس لفظ کی توہین ہے، ان کی مثال قصائی کی دکان پر موجود اس چار پیروں والے جانور کی ہے جو ہڈی اور چھیچڑوں کا ہمہ وقت منتظر رہتا ہے رہ گئے مذہبی رہنما ان کی مثال ان طوائفوں کی ہے جن کو پیسہ دے کے جیسے چاہے نچوا لو اور ہر طرح سے داد عیش وصول کر لو اور عوام کا یہ احمقانہ خواب جس میں پولیس رینجرز اور فوج اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرے کرچی کرچی ہو گیا ہے اور عوام خصوصاً کراچی کے عوام کی یہ حالت ہے کہ قوم کی اکثریت منہ میں گٹکا یا ماوا بھر کے ایک ہاتھ میں گیس کا سلنڈر اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا گیلن لے کر روڈوں پر رواں دواں ہیں اور ان کے بچوں کا مستقبل یہ ہے کہ یا تو چنگ چی رکشہ چلائیں یا فنگر چپس بیچیں یا پھر کمپنیوں میں معمولی نوکری کے لیے دھکے کھاتے پھریں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے البتہ ارباب اختیار اوہ ! سوری مہاراجا اور ان کی ٹیم کو ایک عظیم پریشانی ضرور ہے کہ تحریک لبیک کو ٹھکانے لگا دیا پی ٹی آئی کو سائیڈ پہ کر دیا بلکہ وہ تو خود خوشی سے بکنے کے لیے تیار ہو گئے، اب جماعت اسلامی کو کیسے قابو کریں کون سا بہانہ بنا کر ان پر ہاتھ ڈالا جائے ان پر پابندی لگائی جائے تاکہ یورپ اور امریکا اسرائیل کو یقین دلایا جائے کہ ان کا جانی دشمن ہمارے قابو میں ا ٓچکا ہے۔ جماعت اسلامی کے جلسوں میں کوئی گملہ بھی نہیں ٹوٹتا تو توڑ پھوڑ کا الزام کیسے لگایا جائے؟ ان کے لوگ تو کرپشن میں ملوث بھی نہیں ہوتے تو پھر کیس کیسے بنایا جائے؟ ان کی جماعت کے امیر کواگر بہانہ بنا کر گرفتار بھی کیا جائے تو یہ دوسرا امیر بنا دیں گے دوسرے کو گرفتار کیا جائے تو یہ تیسرا بنا دیں گے دس امیر گرفتار کیے جائیں گے تو یہ گیارواں بنا دیں گے پھر اب ہم کیا پلاننگ کریں؟
ان کی جماعت کے نام کو استعمال کرنے سے روکا جائے یہ نئے نام کے سامنے آ جائیں گے۔ ان سے تو ایوب خان جیسا آمر بھی عاجز آگیا تھا یہ تو دہشت گردی میں بھی ملوث نہیں ہے ان پر الزام کیسے لگائیں یہ تو بیرونی فنڈنگ میں بھی ملوث نہیں ہیں ان کے تو بیرون ملک رابطے بھی نہیں ہیں ان کے بڑے بڑے لوگوں کے زیادہ تر کرائے کے مکانات ہیں یہ تو بیرون ملک اثاثے بھی نہیں بناتے ہیں بلکہ ان کے کارکنوں کے اپنے محنت کے پیسے خود دیگر کارکنوں کی خاطر تواضع میں ہی خرچ ہوتے ہیں یہ تو پیٹرول بھی اپنے پیسوں سے ڈلواتے ہیں یار آخر ان کا ہم کیا کریں؟ یہودی لابی پریشان ہے سیکولر لابی گہری سوچ میں گم ہے قادیانیوں کے سر چکرا رہے ہیں روشن خیال بیوروکریٹس جام پہ جام خالی کیے جا رہے ہیں لیکن مسئلے کا حل نہیں آرہا ہے آخر کیا کریں؟ ہم تو پیسے سے بڑے بڑے پھنے خانوں کو خرید لیتے ہیں لیکن جب جماعت اسلامی کے کسی شخص کے پاس 10 کروڑ روپے لے کے جاتے ہیں تو وہ اس بریف کیس کو ایک زوردار لات رسید کر کے ہم کو کمرے سے باہر نکال دیتا ہے اور سب سے پہلے اپنے امیر کو خبر کرتا ہے کہ اس کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگلے دن ہمارے خلاف پریس کانفرنس ہو جاتی ہے، پھر آخر کیا کریں؟ ہم مہاراجا اور ان کی ٹیم اب ٹھیک طرح سے یہ بات سن لے کہ جماعت اسلامی کہ امیر سے لے کے کارکنان تک لوہے کے چنے ہیں چباؤ گے تو دانت ٹوٹ جائیں گے یہ ملک اسلام کے نام پہ بنا تھا اسلام کے نام پہ قربانی دی گئی تھیں اسلام کے نام پہ پوری پوری خون آلود ٹرینوں میں شہداء کی لاشیں یہ گواہی دے رہی تھیں کہ یہ اسلامی پاکستان بنے اس وقت کے حکمرانوں نے قادیانی سیکولر لابی کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان کے شہدا سے وہ عظیم غداری کی ہے جس کی تاریخ اسلام میں مثال نہیں ملتی یہاں تک کہ ملک دو ٹکڑے کر دیا گیا لیکن کسی کو مجال کوئی فرق پڑا ہو لیکن اب ایسا نہیں چلے گا اب ایسا نہیں ہوگا عوام کو اب یقین ا ٓجانا چاہیے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ ربّ العزت کی ہے اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے اور عوام کو جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے جمع ہو جانا چاہیے اور ایک عظیم تحریک کا اغاز کرنا چاہیے اور جس کا نتیجہ اسلامی نظام کی صورت میں برامد ہوگا اور اس نظام میں ہر طرف عدل و انصاف امن و امان کا دور دورہ ہوگا امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوگا میرٹ کا نظام ہوگا لیکن اس کے لیے اسلامی نظام کے لیے اپنی نسلوں کی بقا اور ان کے تحفظ کے لیے عوام کو جماعت اسلامی کے ساتھ ایک عظیم الشان تحریک کا آغاز کرنا ہوگا اور کامیابی یقینا آپ کے قدم چومے گی۔ بنگلا دیشی عوام سے سبق سیکھیے کہ اب وہاں پر حقیقی انقلاب ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ایسا مغربی پاکستان میں بھی ضرور ہوگا شرط صرف عوام کے متحد ہو کر جماعت اسلامی پر بھرپور اعتماد کی ہے یہ کام عوام کے کرنے کا ہے اور اس کے بعد کا کام جماعت اسلامی کے کرنے کا ہے اور عوام اگر اب بھی ہماری باتوں پہ دھیان نہیں دیں گے تو پانچواں مارشل لا اس کو بہت بہت مبارک ہو اس لیے عوام کو اس شعر کی مانند ہونا چاہیے پھر بات بنے گی۔ نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر؍ تو شاہی ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔ یاد رکھیے شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ چڑیاں اگر متحد ہو جائیں تو ہاتھی کی کھال بھی کھینچ سکتی ہیں تو پھر ہمت مرداں مدد خدا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے بھی نہیں اور عوام عوام کو دیں گے کے نام ہے اور کے لیے اور ان
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔