راستے بند، ارکان غیر حاضر؛ سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلیے ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
سینیٹ کا اجلاس جڑواں شہروں کے راستے بند ہونے اور ارکان کی غیر حاضری کے سبب غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔پریذائیڈنگ افسر منظور احمد کاکڑ کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وقفہ سوالات و جوابات کو معطل کر دیا گیا۔ پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ وقت کی کمی ہے اور تمام ارکان سیلاب کے موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں۔اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان غیر حاضر رہے جب کہ گزشتہ روز بھی وہ سینیٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر پریذائیڈنگ افسر منظور احمد کاکڑ نے کاؤنٹنگ کروانے کی ہدایت کی۔پریذائیڈنگ افسر نے اعلان کیا کہ ایوان میں کورم مکمل نہیں ہے اور 5 منٹ کے لیے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا۔وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں بتایا کہ ایک مذہبی جماعت کی اسلام آباد میں سرگرمی کے باعث راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ تر ارکان اجلاس میں نہیں پہنچ سکے۔اس دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیلیم مانڈی والا اجلاس میں پہنچ گئے، تاہم اس کے باوجود سینیٹ اجلاس میں کورم پورا نہیں ہو سکا اور آخرکار سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پریذائیڈنگ افسر اجلاس میں
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔