امن نوبیل انعام 2025: صدر ٹرمپ پر سبقت پانے والی ماریا کورینا کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ماریا کورینا ایک ممتاز سماجی کارکن ہیں جنہوں نے امن، انسانی حقوق، اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
وہ جنگ زدہ اور بحران زدہ علاقوں میں متاثرین کی مدد، کمیونٹی میں تنازعات کے حل، اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سرگرم رہیں۔
ماریا نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف پروگراموں کی قیادت کی اور متاثرین کو قانونی و سماجی مدد فراہم کی۔ ان کی انتھک کوششیں انہیں عالمی سطح پر پہچان دلوائی ہیں۔
عالمی پہچان اور نوبل امن انعام
ماریا کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور انہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امن صرف غصے اور جنگ کے خاتمے سے نہیں آتا، بلکہ تعلیم، مساوات اور سماجی انصاف کے فروغ سے آتا ہے۔
یہ اعزاز ماریا کی انسانی ہمدردی اور امن قائم رکھنے کے لیے انتھک محنت کا اعتراف ہے اور انہیں عالمی سطح پر ایک روشن مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔