محسن نقوی اورطلال چوہدری کا فیض آباد کا دورہ،جوانوں کا حوصلہ بڑھایا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے فیض آباد کا دورہ کیا اور مختلف علاقوں میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ۔آئی جی اسلام آبادپولیس، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنراور متعلقہ حکام بھی ہمراہ تھے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے رات گئے تک عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے فرائض سرانجام دینے والےاسلام آباد پولیس و فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں سے ملاقات کی،انہوں نے ڈیوٹی پر موجود جوانوں کا حوصلہ بڑھایا ۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے فیڈرل کانسٹیبلری اور اسلام آباد پولیس کے جوانوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا اور ان کے جذبے کو سراہا،انہوں نے نے جوانوں سے کھانے پینے کی فراہمی کے بارے میں پوچھا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ ڈیوٹی پر موجود جوانوں کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔ آپ سب پاکستان کے سپاہی ہیں ۔ قانون کی عملداری یقینی بنانے میں آپ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔