وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں میں شرکت کیلیے امریکا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے۔
اپنے 6 روزہ دورے کے دوران وزیر خزانہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
وزیر خزانہ اپنے دورے کے دوران آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔
اُن کی عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے بالمشافہ ملاقات بھی طے ہے، جب کہ وہ اجے بنگا کی خصوصی دعوت پر مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے۔
محمد اورنگزیب G24 اور مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان (MENAP) ممالک کے پلیٹ فارم پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیوا سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں وہ بطور کلیدی مقرر خطاب کریں گے۔
علاوہ ازیںوہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق عالمی بینک کے زیر اہتمام علاقائی راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کریں گے، جس میں مختلف ممالک کے ٹیکس حکام اپنی اصلاحاتی پیش رفت پیش کریں گے۔
وزیر خزانہ ورلڈ اکنامک فورم کے زیر اہتمام ہونے والے 2 بڑے پروگرامز میں بھی شرکت کریں گے جب کہ چین، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان اور برطانیہ کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں بھی ان کے شیڈول کا حصہ ہیں۔
دورے کے دوران محمد اورنگزیب کی وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خزانہ (Treasury) اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ وہ کانگریس کی فنانشل سروسز کمیٹی کے چیئرمین اور یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے عہدیداران سے بھی گفتگو کریں گے، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور ٹیکس تجاویز پر بات چیت ہوگی۔
مزید برآں وزیر خزانہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، بین الاقوامی کمرشل بینکوں اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کار بینکوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔
اسی طرح وہ معروف تھنک ٹینکس جیسے اٹلانٹک کونسل اور پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنامکس کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ مختلف سرمایہ کاری فورمز اور سیمینارز میں ملک کے معاشی امکانات پر روشنی ڈالیں گے۔
اپنے 6 روزہ دورے کے دوران وزیر خزانہ 65 سے زائد ایونٹس، ملاقاتوں اور اجلاسوں میں شرکت کریں گے، جن میں پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ ارکان سے ملاقاتیں اور بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویوز دینا بھی شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دورے کے دوران شرکت کریں گے سے ملاقاتیں آئی ایم ایف میں شرکت بینک کے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ