ڈیجیٹل معیشت کا نفاذ؛ مصنوعی ذہانت ملکی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
لاہور:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کا نفاذ کے لیے مصنوعی ذہانت ملکی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
مصنوعی ذہانت کے فروغ سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کو معیشت کی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافے، سرکاری نظام کی شفافیت اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ ڈیجیٹل معیشت کے نفاذ کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے تاکہ پاکستان خطے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔
وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت سے متعلق قومی پالیسی کے مؤثر نفاذ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن، پرائیویسی اور ڈیٹا سورینیٹی جیسے پہلوؤں کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا تاکہ اس ٹیکنالوجی کا فائدہ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، زراعت، سکیورٹی اور دیگر اہم شعبوں میں بھرپور طور پر حاصل کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے فروغ اور نفاذ کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو پالیسیوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اے آئی کے نفاذ کے حوالے سے ماہرین پر مشتمل ایک ایڈوائزری پینل بھی قائم کیا جا رہا ہے جو تکنیکی رہنمائی فراہم کرے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب، اعلیٰ سرکاری افسران اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بدولت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے اور حکومت اس سمت میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کے ڈیجیٹل معیشت کے لیے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔