فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، کارروائی وقت کی ضرورت تھی، راناثنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر راناثنااللہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، مسلح افواج نے جو کارروائی کی، یہ وقت کی ضرورت تھی۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نے جو کارروائی کی، یہ وقت کی ضرورت ہے جب 30،30 جنازے پڑھے جارہے تھے تو پوری قوم کے دلوں میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ کب تک جوان سپوتوں کے جنازے پڑھتے رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر دل میں یہ بات تھی اس کا جواب دیا جانا چاہیے اور اتنا ہی موثر دیا جانا چاہیے جتنا جواب کل دیا گیا، اس پر میں وزیراعظم ، صدر پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ جواب تو وقت کی ضرورت تھی لیکن جس موثر انداز سے جواب دیا، حق یہ بنتا تھا اور یہی تقاضا ہے، اب سیاسی قیادت کو اس موقع پر لبیک کہنا چاہیے۔
راناثنااللہ نے کہا کہ اس موقع پر میں ایک مذہبی جماعت جو غزہ مارچ کے نام پر احتجاج کررہی ہے، ان سے کہنا چاہوں گا آپ کے احتجاج میں پرتشدد واقعات ہوئے ہیں، اس حوالے سے مفتی منیب الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن اور علامہ طاہر اشرفی سمیت دیگر رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ موقع احتجاج کا نہیں، ایسے وقت میں جب افواج اپنے شہدا کے خون کا بدلا لے رہی ہے، آپ بے شک ہماری نہیں سنیں لیکن پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں اور جن شہدا کے خون کا حساب چکایا جارہا ہے، ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اس احتجاج کو موخر کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وقت کی ضرورت افواج نے تھا کہ
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان