برہم پترا پر چین کے ڈیم کے سائے میں بھارت کا 77 ارب ڈالر کا پن بجلی منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
بھارت نے اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے دریائے برہم پترا سے 2047 تک 76 گیگاواٹ سے زائد پن بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 77 ارب ڈالر (تقریباً 6.4 لاکھ کروڑ بھارتی روپے) لگایا گیا ہے، جس میں بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی تعمیر بھی شامل ہے۔
بھارتی سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی (CEA) نے پیر کے روز اس منصوبے کی تفصیلات جاری کیں، جس کے مطابق یہ پن بجلی پراجیکٹس شمال مشرقی ریاستوں میں دریا کے 12 ذیلی ذخائر پر تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبے میں 208 بڑے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس شامل ہیں، جن سے مجموعی طور پر 64.
چین کی سرگرمیاں بھارت کی تشویش کا باعث
دریائے برہم پترا، جو تبت سے نکلتا ہے، بھارت سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہو کر خلیج بنگال میں گرتا ہے، ایک طویل عرصے سے بھارت اور چین کے درمیان اسٹریٹیجک تناؤ کا باعث رہا ہے۔ خاص طور پر چین کی جانب سے دریا کے بالائی حصے پر بڑے پیمانے پر ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبے بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔
بھارت کو خدشہ ہے کہ چین کی طرف سے یارلنگ زانگبو (برہم پترا کا تبتی نام) پر بنائے جانے والے ڈیم اس کے پانی کے بہاؤ کو خاص طور پر اروناچل پردیش میں داخلے سے پہلے 85 فیصد تک کم کر سکتے ہیں، جس سے پانی کی دستیابی، زراعت اور ماحول پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اروناچل پردیش: پن بجلی کا خزانہ
رپورٹ کے مطابق برہم پترا بیسن بھارت کی 80 فیصد غیر استعمال شدہ پن بجلی صلاحیت کا مرکز ہے۔ صرف اروناچل پردیش میں ہی دریا کی توانائی سے 52.2 گیگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ خطہ بھارت کے ہائیڈرو پاور وژن میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اس کی جغرافیائی اور سیاسی حساسیت منصوبے کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
مرحلہ وار عمل درآمد اور طویل المدتی ہدف
CEA کے مطابق منصوبے کو دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے پر 2035 تک 1.91 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، جبکہ دوسرے مرحلے پر 4.52 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ کچھ منصوبے پہلے ہی زیرِ تعمیر یا منظوری کے مراحل میں ہیں۔
یہ منصوبہ بھارت کے اس بڑے ہدف کا حصہ ہے جس کے تحت وہ 2030 تک 500 گیگاواٹ بجلی غیر فوسل فیول ذرائع سے حاصل کرنا چاہتا ہے، اور 2070 تک فوسل فیول پر انحصار مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔