data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: افغانستان کی جانب سے کی گئی بلااشتعال اور بزدلانہ جارحیت کے خلاف وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے 12 بہادر سپوتوں کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی، شہدا نے 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب مادرِ وطن کی سرحدوں پر دشمن کے حملے کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں وطن پر نچھاور کیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نمازِ جنازہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے علاوہ وفاقی وزرا، گورنر خیبرپختونخوا، اعلیٰ عسکری و سول حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، فضا میں شہداء کے حق میں نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی، جب کہ حاضرین کی آنکھیں اشکبار اور دل جذبۂ فخر سے لبریز تھے۔

اس موقع پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ان جوانوں کے بے مثال عزم اور قربانی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے افغان طالبان حکومت اور بھارت کی حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیموں کی بزدلانہ جارحیت کے سامنے سر نہ جھکایا، یہ سپوت پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کی راہ میں قربانی کی لازوال مثال بن گئے ہیں۔

وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج، قوم کی مکمل تائید کے ساتھ، ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت، دہشتگردی یا بیرونی سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، یہ قربانیاں قوم کے حوصلے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی ہیں، اور دشمن کو ایک واضح پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”

شہداء کے جسدِ خاکی کو بعدازاں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا جہاں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ چکلالہ گیریژن میں موجود اہلِ وطن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کے خون کا قرض پاکستان کی مضبوطی، استحکام اور اتحاد سے ادا کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی