تحریک لبیک کیخلاف رات کے اندھیرے میں آپریشن (تصادم میں ایس ایچ اوسمیت 5 افراد جاں بحق، 48 اہلکار زخمی)
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
سیکیورٹی اداروں نے کرین پارٹی کے کارکنان کو منتشر کرکے جی ٹی روڈ کو خالی کروا لیا، ٹی ایل پی کارکنوں کی اندھا دھند فائرنگ، پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال
کارروائی کے دوران 3 مظاہرین اور ایک راہگیر جاں بحق، چالیس سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی،شہریوں اور اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا،پنجاب پولیس کا دعوی
مرید کے (مانیٹرنگ ڈیسک)مریدکے میں پولیس نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے لانگ مارچ کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا تاہم مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او فیکٹری ایریا شہزاد جھومڑ شہید ہوگئے۔سیکیورٹی اداروں نے کرین پارٹی کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے تمام کارکنان کو منتشر کرکے جی ٹی روڈ کو خالی کروا لیا۔ سیکیورٹی اداروں نے پورے جی ٹی روڈ کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ مریدکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کر دیا ہے اور اس آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ زخمیوں کی تعداد 48 ہے جن میں سے 17 کو گولی لگی ہے۔پولیس کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی جان کے دفاع میں محدود کارروائی کرنا پڑی اور اس دوران ایک ایچ ایچ او شہید جبکہ پولیس اور رینجرز کے 48 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 17 اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ٹی ایل پی مظاہرین کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 3 کارکنان اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوگیا جبکہ 8 شہری زخمی ہوئے۔انتشار پسند گروہ نے 40 سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔پولیس نے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے متاثر اور زخمی ہونے والوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقامی افراد کو جی ٹی روڈ کی طرف بڑھنے سے بھی روک دیا گیا۔پولیس تمام شہداء کی لاشوں اور زخمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کو منتشر کر جی ٹی روڈ ٹی ایل پی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔