کراچی کے تعلیمی اداروں میں قبل از وقت چھٹی، پولیس کا احتجاج سے متعلق ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی:
شہر کے متعدد اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں قبل از وقت چھٹی دیے جانے جبکہ سوشل میڈیا پر مختلف علاقوں میں احتجاج سے متعلق کراچی پولیس کا ردعمل سامنے آگیا۔
پولیس حکام کے مطابق شہر میں اس وقت کسی بھی جگہ احتجاج نہیں ہو رہا لہٰذا شہری افواہوں پر کان نہ دھریں، کراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔
کراچی پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعنیات کر دی گئی ہے جبکہ احتجاج مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس تیار ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ نیو کراچی سے مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا، ہنگامہ آرائی میں ملوث 10 افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور مقدمہ بھی درج کر رہے ہیں، اشتعال دلانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب، ضلع کورنگی کی حدود میں کسی بھی مقام پر کسی بھی جماعت کی جانب سے کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔ ضلع کورنگی کے تمام سڑکیں اور مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی ہوئی ہیں۔
ترجمان ایس ایس پی کورنگی کے مطابق شہریوں سے اپیل ہے کہ کسی بھی قسم کی من گھڑت یا غیر مصدقہ اطلاعات پر دھیان نہ دیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر 15 مددگار پولیس پر اطلاع دیں، پولیس آپ کی خدمت اور تحفظ کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔
ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ نیو کراچی کے مختلف علاقوں میں تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور ٹریفک کی روانی بحال ہے۔
نیو کراچی سندھی ہوٹل پر مشتعل مظاہرین کے پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی، نیو کراچی سندھی ہوٹل اور فور کے چورنگی کے اطراف پر پولیس کا مکمل کنٹرول ہے، نیو کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کی روانی بحال ہے۔
ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں ملوث چند افراد کو گرفتار کر لیا، کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری علاقے میں تعینات ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نیو کراچی کے مطابق کسی بھی
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔