پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے قبل بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کی تجویز مسترد کر دی ہے جس کے بعد ملک میں آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 6 ارب ڈالر مالیت کی پالیسی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اب براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی 2023 میں ترامیم پر غور کر رہی ہے تاکہ ملکی ریفائنری سیکٹر کے مستقبل کو تحفظ دیا جا سکے اور وہ منصوبے جو پہلے تعطل کا شکار ہو چکے ہیں دوبارہ فعال کیے جا سکیں۔
سیمنٹ سستاہوگیا
وزارت توانائی کے سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن اس وقت ایک نئی سمری تیار کر رہا ہے جسے جلد کابینہ کی توانائی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
تجویز دی جا رہی ہے کہ نئی پالیسی میں ایسی مراعات شامل کی جائیں جو گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت پہلے دی جا چکی ہیں مثلاً پلانٹس اور مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے مکمل چھوٹ شامل ہے۔
ایک اہم نکتہ جو زیر غور ہے وہ ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن کو مقرر کرنا ہے جو اس وقت فی لیٹر 1.
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
حکومت نئی پالیسی میں ایک استحکام کی شق شامل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے اور ریفائنری منصوبوں کے مالی ڈھانچے کو تحفظ دیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اسکرو اکاؤنٹ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہےجس میں مخصوص ریفائنریوں کو معاوضہ دیا جا سکے گا۔ اندازہ ہے کہ یہ فنڈ آئندہ چھ برسوں میں 90 کروڑ ڈالر جمع کرے گا اور سود سمیت اس کی مالیت ایک سے 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ رقم ٹیکس چھوٹ کی پالیسی سے متاثر ہونے والی ریفائنریوں کو مالی مدد کے طور پر فراہم کی جائے گی۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025ء منظور، اپوزیشن کا شور شرابا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔