میکسیکو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 130افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
شمالی امریکی ملک میکسیکو میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 130 افراد جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے ایک لاکھ سے زائد مکانات متاثر ہوئے ہیں، جب کہ سڑکیں، پل اور دیگر انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وسطی ریاستوں میں بارشوں نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے، جہاں پانچ ریاستوں میں بجلی کا نظام مکمل طور پر متاثر ہو چکا ہے۔
میکسیکو کی صدر نے اعتراف کیا ہے کہ اس سطح کی شدید بارشوں کی پیش گوئی نہیں کی گئی تھی، اور حکام نے مزید نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پانی میں پھنسے لوگوں کو نکالنے اور امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق 10 ہزار سے زائد فوجی اہلکار ریسکیو آپریشن اور امداد کی تقسیم میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔