وزیراعلیٰ مریم نواز سے کابینہ میں شامل نئے وزراء رانا محمد اقبال ، منشاء اللہ بٹ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے کابینہ میں شامل ہونے والے نئے وزراء نے ملاقات کی۔ملاقات میں پارٹی و سیاسی امور اورملکی حالات پر گفتگو ہوئی، امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان اور صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل خواجہ محمد منشا اللہ بٹ کی کابینہ میں شمولیت پر خیرمقدم کیا۔مریم نواز شریف نے رانا محمد اقبال اور منشا اللہ بٹ کی کابینہ میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا۔صوبائی وزرا رانا محمد اقبال اور منشا اللہ بٹ نے اظہار اعتماد پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا شکریہ اد اکیا، وزیر قانون پنجاب نے وزیراعلی مریم نواز شریف کے پرامن پنجاب کے ویژن کو سراہا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فیکٹری ورکرز اور مزدوروں کی رجسٹریشن میں شفافیت کی ہدایت کی اور صوبائی وزیر محنت کو مقررہ کردہ اجرات کی ادائیگی یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے کہا کہ چند ماہ کی قلیل مدت میں صوبہ بھر میں امن وامان کی فضا بہتر ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رانا محمد اقبال مریم نواز شریف کابینہ میں اللہ بٹ
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔