مڈغاسکر میں نئی سیاسی تبدیلی؛ کرنل مائیکل رینڈریانرینا نے بطور صدر حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
مڈغاسکر میں حالیہ عوامی بغاوت اور فوجی مداخلت کے بعد کرنل مائیکل رینڈریانرینا نے ملک کے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مڈغاسکر میں جنریشن زی کے ملک گیر مگر خونی احتجاج کے نتیجے میں صدر اینڈری راجویلینا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
ملکی پارلیمنٹ نے آئینی کردار ادا کرتے ہوئے ’ذمہ داری سے فرار‘ کے الزام پر صدر کا مواخذہ کیا اور انھیں صدارت کے عہدے معزول سے کردیا تھا۔
جس کے بعد قائم ہونے والی عبوری فوجی کونسل نے ملک کے اقتدار کو سنبھال لیا اور قومی اسمبلی کے سوا تمام پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس عبوری فوجی کونسل کے سربراہ رینڈریانرینا ہی تھے جنھیں عدالتِ عالیہ نے ملک کے صدر کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیدی۔
اس عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اب کرنل مائیکل رینڈریانرینا کو ملکی فوج کے سربراہ نہیں بلکہ منتخب صدر کے طور پر آئینی حیثیت حاصل ہوگئی۔
ان کی حلف برداری کی تقریب دارالحکومت انتاناناریوو میں منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ فوجی افسران، ملکی سیاست دان، نوجوانوں کی تحریک کے نمائندے اور غیر ملکی وفود نے شرکت کی۔
حلف اُٹھانے کے بعد صدر رینڈریانرینا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہماری تاریخ کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ ہم ماضی کو بھلا کر ملک کی سیاسی، معاشی اور انتظامی اصلاحات کریں گے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ 18 سے 24 ماہ کے اندر نئے انتخابات کرائیں گے، نئی آئینی اصلاحات اور انتخابی قوانین تیار کیے جائیں گے جب کہ ایک ’’مشترکہ وزیراعظم‘‘ کے تقرر کے لیے مشاورت بھی جاری ہے۔
صدر رینڈریانرینا نے اس الزام کو مسترد کیا کہ یہ فوجی بغاوت ہے۔ ان کے بقول، ہائی کورٹ کی منظوری نے انہیں آئینی صدر بنایا ہے۔
تاہم، مفرور صدر راجویلینا کے حامیوں نے اسے آئینی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے غیر قانونی طور پر فوج کے ساتھ مل کر اقتدار منتقل کیا۔
خیال رہے کہ معزول صدر راجویلینا نے جان کے خطرے کے باعث ملک چھوڑنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فرانس کے زیر انتظام جزیرہ رِی یونین پہنچے اور وہاں سے دبئی روانہ ہوگئے۔
یہ تیسری بار ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال مڈغاسکر کا ملکی سربراہ اقتدار سے بے دخل ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا اور ملک میں 1960 کی آزادی کے بعد تیسری فوجی عبوری حکومت کا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رینڈریانرینا نے کے بعد
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔