اسلام آباد (نمائندہ  خصوصی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے گورننس اور ریگولیشن سٹرکچر کو جدید بنانا ہوگا۔ جبکہ حالیہ سیلاب میں ملکی معیشت کو ابتدائی تخمینے کے مطابق 822 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ایک ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ نقصانات کی ابتدائی تخمینے کی رپورٹ مرتب کرکے وزیراعظم کو بھجوائی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی تخمینہ رپورٹ سے خطاب کرتے کہا کہ حالیہ سیلاب سے بہت تباہی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ زرعی شعبے میں 430 ارب روپے اور انفراسٹرکچر کو 307 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا پہلی سہ ماہی میں ٹیکس کولیکشن میں 12.

5 فیصد، غیر ملکی ترسیلات زر میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔ حکومت نے 2884 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔ انہوں نے کہا غزہ امن معاہدے سے پاک امریکہ تعلقات نئے سرے سے استوار ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ بڑی کامیابی ہے۔ اب پاکستان کو تیز ترقی کی طرف لے کر جانا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ارب روپے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان