پنجاب: دفعہ 144 میں 7 دن کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
—فوٹو: پی پی آئی
محکمۂ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 میں 7 دن کی توسیع کر دی۔
ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق اس دوران ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع پر پابندی ہو گی۔
محکمۂ داخلہ نے جمعہ 24 اکتوبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت 4 یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہو گی، پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اُس مسلح جتھے نے گھروں اور مساجد کے میناروں پر پوزیشنیں لی ہوئی تھیں،
ترجمان کے مطابق صوبے میں دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے، اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہو گی۔
کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کی سفارش کی گئی ہے، دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، پنجاب حکومت نے دہشت گردی اور امنِ عامہ کے خدشات کے پیشِ نظر احکامات جاری کیے۔
ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازے اور تدفین پر نہیں ہو گا، سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہیں، لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعے کے خطبے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
محکمۂ داخلہ پنجاب کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر عوامی جلوس و دھرنا دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے، شر پسند عناصر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ریاست مخالف سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفعہ 144 کے نفاذ داخلہ پنجاب مکمل پابندی کے لیے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔