ملک میں 20 سے 30 سال کے نوجوانوں کی بڑی تعداد ذیابیطس کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ماہرینِ ذیابیطس نے خبردار کیا ہے کہ معاشی دباؤ، دو دو نوکریاں، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث 20 سے 30 سال تک کے نوجوان بڑی تعداد میں ذیابیطس کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں اپنی بیماری کا علم اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ دل کی شریانیں بند ہونے اور ہائی بلڈ پریشر جیسی پیچیدگیوں کے باعث اسپتال نہ پہنچ جائیں۔ ڈسکورنگ ڈائبٹیز کی پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں ایسے نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو انجیوگرافی کے دوران یہ جان کر حیران رہ جاتے ہیں کہ وہ عرصہ دراز سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں مگر لاعلمی کے باعث علاج نہیں کروا رہے تھے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ جب تک مرض کی تشخیص ہوتی ہے، اُس وقت تک خون کی نالیوں، گردوں اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران ڈسکورنگ ڈائیابٹیز پروگرام کی 2024-25 کی کارکردگی رپورٹ بھی جاری کی گئی جس کے مطابق اب تک مہم کے ذریعے 85 لاکھ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی گئی، 9 لاکھ 66 ہزار افراد کے ذیابطیس رسک پروفائل کو ٹریک کیا گیا، 4 لاکھ 63 ہزار مشتبہ مریضوں کو ڈاکٹروں سے جوڑا گیا جبکہ 3 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد کو مفت اسکریننگ اور مشاورت فراہم کی گئی۔
ماہرین نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں ذیابطیس کی لاعلمی کے ساتھ پھیلنے والی وبا خاموشی کے ساتھ نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے سابق صدر ڈاکٹر ابرار احمد نے کہا کہ ملک میں ہر چوتھا شخص ذیابطیس میں مبتلا ہے اور اگر طرزِ زندگی میں فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزن گھٹانے کے انجیکشنز نے لوگوں کی توجہ ذیابطیس کے اصل مسئلہ اور باقاعدہ شوگر مانیٹرنگ سے ہٹا دی ہے۔
ڈسکورنگ ڈائیابٹیز کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید جمشید احمد نے بتایا کہ ملک میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد باقاعدہ طور پر ذیابطیس کے مریض کے طور پر رجسٹرڈ ہیں جبکہ اندازوں کے مطابق تقریباً اتنی ہی تعداد لاعلم مریضوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد نے اسکریننگ کے دوران پہلی مرتبہ جانا کہ وہ ذیابطیس کے مریض ہیں۔ یہ سوچ کہ ایک کلو گلاب جامن کھا لینا کوئی بڑی بات نہیں، اسی مزاج نے نوجوانوں کو معذوری کی جانب دھکیل دیا ہے۔
فارمیوو کے ایم ڈی ہارون قاسم نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار افراد ذیابطیس اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں شکر والے مشروبات پر بھاری ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی یہی قدم اٹھایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا رجحان صحت مند غذا کی طرف بڑھے۔
ڈاکٹر صومیہ اقتدار اور ڈاکٹر خورشید احمد خان نے کہا کہ ذیابطیس اور ہائپر ٹینشن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے امراض ہیں اور جب تک بنیادی سطح پر آگہی اور اسکریننگ کو نظام کا حصہ نہیں بنایا جاتا، یہ وبا تیزی سے پھیلتی رہے گی۔
ٹرائی فٹ کے سی ای او احمر اعظم نے کہا کہ ہم بطور قوم نظام پر نہیں بلکہ اتفاق پر چلنے کے عادی ہیں۔ اگر کوئی شخص ہفتے میں صرف ڈھائی گھنٹے ورزش کے لیے نہیں نکال سکتا تو صحت مند زندگی کی توقع رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ٹرائی فٹ کی تمام ڈیجیٹل اسکرینز پر ایک ہفتے تک ذیابطیس سے متعلق آگاہی پیغامات نشر کیے جائیں گے۔
ماہرین نے مطالبہ کیا کہ ذیابطیس کی آگہی کو قومی میڈیا، تعلیمی اداروں، موبائل نیٹ ورکس اور اوٹ آف ہوم میڈیا کے ذریعے مستقل بنیادوں پر مہم کی شکل دی جائے، ورنہ یہ خاموش بیماری پاکستان کی نوجوان ورک فورس کو مفلوج کردے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے باعث ملک میں
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔