data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: ماہرینِ ذیابیطس نے خبردار کیا ہے کہ معاشی دباؤ، دو دو نوکریاں، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث 20 سے 30 سال تک کے نوجوان بڑی تعداد میں ذیابیطس کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں اپنی بیماری کا علم اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ دل کی شریانیں بند ہونے اور ہائی بلڈ پریشر جیسی پیچیدگیوں کے باعث اسپتال نہ پہنچ جائیں۔ ڈسکورنگ ڈائبٹیز کی پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں ایسے نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو انجیوگرافی کے دوران یہ جان کر حیران رہ جاتے ہیں کہ وہ عرصہ دراز سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں مگر لاعلمی کے باعث علاج نہیں کروا رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جب تک مرض کی تشخیص ہوتی ہے، اُس وقت تک خون کی نالیوں، گردوں اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران ڈسکورنگ ڈائیابٹیز پروگرام کی 2024-25 کی کارکردگی رپورٹ بھی جاری کی گئی جس کے مطابق اب تک مہم کے ذریعے 85 لاکھ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی گئی، 9 لاکھ 66 ہزار افراد کے ذیابطیس رسک پروفائل کو ٹریک کیا گیا، 4 لاکھ 63 ہزار مشتبہ مریضوں کو ڈاکٹروں سے جوڑا گیا جبکہ 3 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد کو مفت اسکریننگ اور مشاورت فراہم کی گئی۔

ماہرین نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں ذیابطیس کی لاعلمی کے ساتھ پھیلنے والی وبا خاموشی کے ساتھ نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے سابق صدر ڈاکٹر ابرار احمد نے کہا کہ ملک میں ہر چوتھا شخص ذیابطیس میں مبتلا ہے اور اگر طرزِ زندگی میں فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزن گھٹانے کے انجیکشنز نے لوگوں کی توجہ ذیابطیس کے اصل مسئلہ اور باقاعدہ شوگر مانیٹرنگ سے ہٹا دی ہے۔

ڈسکورنگ ڈائیابٹیز کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید جمشید احمد نے بتایا کہ ملک میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد باقاعدہ طور پر ذیابطیس کے مریض کے طور پر رجسٹرڈ ہیں جبکہ اندازوں کے مطابق تقریباً اتنی ہی تعداد لاعلم مریضوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد نے اسکریننگ کے دوران پہلی مرتبہ جانا کہ وہ ذیابطیس کے مریض ہیں۔ یہ سوچ کہ ایک کلو گلاب جامن کھا لینا کوئی بڑی بات نہیں، اسی مزاج نے نوجوانوں کو معذوری کی جانب دھکیل دیا ہے۔

فارمیوو کے ایم ڈی ہارون قاسم نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار افراد ذیابطیس اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں شکر والے مشروبات پر بھاری ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی یہی قدم اٹھایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا رجحان صحت مند غذا کی طرف بڑھے۔

ڈاکٹر صومیہ اقتدار اور ڈاکٹر خورشید احمد خان نے کہا کہ ذیابطیس اور ہائپر ٹینشن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے امراض ہیں اور جب تک بنیادی سطح پر آگہی اور اسکریننگ کو نظام کا حصہ نہیں بنایا جاتا، یہ وبا تیزی سے پھیلتی رہے گی۔

ٹرائی فٹ کے سی ای او احمر اعظم نے کہا کہ ہم بطور قوم نظام پر نہیں بلکہ اتفاق پر چلنے کے عادی ہیں۔ اگر کوئی شخص ہفتے میں صرف ڈھائی گھنٹے ورزش کے لیے نہیں نکال سکتا تو صحت مند زندگی کی توقع رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ٹرائی فٹ کی تمام ڈیجیٹل اسکرینز پر ایک ہفتے تک ذیابطیس سے متعلق آگاہی پیغامات نشر کیے جائیں گے۔

ماہرین نے مطالبہ کیا کہ ذیابطیس کی آگہی کو قومی میڈیا، تعلیمی اداروں، موبائل نیٹ ورکس اور اوٹ آف ہوم میڈیا کے ذریعے مستقل بنیادوں پر مہم کی شکل دی جائے، ورنہ یہ خاموش بیماری پاکستان کی نوجوان ورک فورس کو مفلوج کردے گی۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے باعث ملک میں

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد