’پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کریں‘: وزیر خزانہ کی ابوظہبی کمرشل بینک کے وفد سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
امریکا میں وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کے دورے کا چھٹا اور آخری روز اہم مالی و معاشی سرگرمیوں سے بھرپور رہا۔
وزیرِ خزانہ نے ابو ظہبی کمرشل بینک کے سینیئر انتظامی وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِ خزانہ نے وفد کو پاکستان کی جانب سے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، پی آئی اے اور ایئرپورٹ کی نجکاری سے متعلق بریفنگ
انہوں نے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا اور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کی تجدید سے متعلق پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔
وزیرِ خزانہ نے حکومت کے نجکاری پروگرام میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے قومی ایئرلائن کی نجکاری میں تیزی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ریکو ڈک منصوبے کے فنانشل کلوز کے قریب ہے اور ایکزم بینک کی شمولیت کے منتظر ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے ابو ظہبی کمرشل بینک پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کرے، کیونکہ یہ بینک تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ میں فعال کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ابو ظہبی کمرشل بینک کے درمیان مالی تعاون مزید مضبوط ہو گا۔
دریں اثنا وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے جے پی مورگن کے سینیئر انتظامی وفد سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے وفد کو چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے پہلے اجراء سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک گرین بانڈ ہوگا۔
وزیرِ خزانہ نے حکومت کے نجکاری پروگرام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کابینہ کی منظوری سے فرسٹ ویمن بینک کی جی ٹو جی فروخت کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی کمپنیاں ریکو ڈک منصوبے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایکزم بینک جلد منصوبے کے مالیاتی اشتراک میں شامل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: معیشت درست سمت میں گامزن، آئندہ مالی سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائےگا، وزیر خزانہ
مزید برآں وزیرِ خزانہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان جاری ڈیجیٹل تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے جے پی مورگن ٹیم پر زور دیا کہ وہ دو طرفہ تعاون کے مزید شعبے تلاش کرے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایم ایف محمد اورنگزیب ملکی معیشت نجکاری وزیر خزانہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف محمد اورنگزیب ملکی معیشت نجکاری وی نیوز سرمایہ کاری کے محمد اورنگزیب انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش