دوحا:

اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے 13 گھنٹے طویل مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے جن کے نتیجے میں دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔

اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی اور اسٹریٹیجک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کی میزبانی ریاستِ قطر نے کی جبکہ جمہوریہ ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ دوطرفہ امن و استحکام کے لیے ایک مستقل مکینزم پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی پوزیشن آف اسٹرینتھ کا نتیجہ ہے، جہاں افواجِ پاکستان نے زمینی سطح پر واضح ردعمل دے کر دوسری جانب کو مؤثر پیغام دیا۔

اس کے بعد ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کا وہ دیرینہ اور واضح مطالبہ تسلیم کیا گیا جس میں افغانستان سے دہشت گردی کی ہر قسم کی حمایت اور سہولت کاری کے خاتمے کا تقاضا کیا گیا تھا۔

 

حساس نوعیت کے باعث مذاکرات کی تمام تفصیلات کو عوامی نہیں کیا گیا جو اس بات کا مظہر ہے کہ افغان فریق کو چہرہ بچانے کا موقع دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حقیقت میں کوئی مطالبہ افغان جانب سے پیش ہی نہیں کیا گیا، جبکہ پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

اس معاہدے کے تحت افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے گا۔

فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ طے شدہ نکات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اس ضمن میں اگلا فالو اپ اجلاس 25 اکتوبر کو استنبول میں منعقد ہو گا، جہاں دونوں ممالک کے وفود تفصیلی معاملات پر بات چیت کریں گے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت کو خطے میں امن و استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ سرحدی کشیدگی کے مستقل خاتمے کی بنیاد رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا گیا

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت

قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں. 

بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا

یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ  کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔

بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔

افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق