پی ٹی آئی وکلاکو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ملزمان کئی بارعدالت میں طلب کیے گئے لیکن پیش نہ ہوئے،ضمانتی کو بھی نوٹس بھجوا دیا گیا
عمران خان کیخلاف عدت میں نکاح کیس کے دوران خاور مانیکا پر مبینہ تشدد کے الزامات
پی ٹی آئی وکلا وارنٹ گرفتاری کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران گرفتار کرنے اور عدالت میں پیش کرنے کا واضح حکم جاری کیا۔ کیس کی کارروائی جج طاہر عباس سپرا نے کی جس میں عدالت نے ریمارکس دیٔے کہ ملزمان کئی بار طلب کیے گئے لیکن پیش نہ ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکلا کے خلاف تھانہ رمنا میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ پہلے ہی درج ہے، جس کے بعد عدالت نے نعیم حیدر پنجوتھا، فتح اللہ برکی، انصر کیانی اور علی اعجاز بٹر کے وارنٹ جاری کیے۔ ساتھ ہی ان کے ضمانتی کو بھی نوٹس بھجوا دیا گیا تاکہ قانونی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ متعلقہ حکام پی ٹی آئی وکلا کو گرفتار کرکے فوری طور پر عدالت میں پیش کریں تاکہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھ سکے۔اسی دوران سماعت میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی جب بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف عدت میں نکاح کے کیس کے دوران خاور مانیکا پر مبینہ تشدد کے الزامات کا ذکر بھی کیا گیا جس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عدالت میں پی ٹی ا ئی عدالت نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔