وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان سمیت جو بھی پاکستان پر حملہ کرے گا اس کو جواب ملے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کو پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے پاکستان کی مسلح افواج کے لیے صوبائی حکومت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے، صوبے سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے اور 12 لاکھ مہاجرین اب بھی ہیں جن کو باعزت بھجوائیں گے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صحافیوں سےغیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور گذشتہ حکومت میں وہ میڈیا کے محاذ پر تھوڑے کمزور تھے تاہم جو غلطیاں ہوں ان پر تنقید ضرور کریں لیکن صوبہ کو نقصان نہ پہنچے۔
وزیراعلی نے کہا کہ انہیں کسی کے خلاف نہیں اتارا گیا، ہم تو قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، عدالتوں میں جنگ لڑرہے ہیں، انصاف نہ ملا تو احتجاج ہی کرینگے۔
وزیر اعلی نے پاک افغان حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو جواب ملے گا، کے پی سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، صوبے میں 12 لاکھ مہاجرین اب بھی موجود ہیں انہیں باعزت طریقے سے بھجوایا جائیگا، افغان مہاجرین کی واپسی کاعمل تیز کرنے کے لیے تھری فور ونڈو آپریشن کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ وہ حکومت چلانے نہیں تبدیلی کے لیے آئے ہیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت نہ ملا تو مشاورت سے کابینہ کی تشکیل کی جائے گی تاہم چیف سیکرٹری اور آئی جی فی الحال یہی رہیں گے اور انکی تمام توجہ امن وامان ترقیاتی کاموں اور گڈ گورننس پر ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ کابینہ کے اہل اور نا اہل ارکان کے بارے میں بانی کو بتاؤنگا جبکہ بانی پی ٹی آئی نے صرف مزمل اسلم کو کابینہ کے لیے کںفرم کیا ہے، بحثیت ورکر پارٹی تنظیم اور وزیراعلی کے طور پر صرف بانی کو جوابدہ ہوں۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ ایڈوائزری کونسل کے قیام کی بات نہ تو پارٹی میں ہوئی نہ کسی نے بات کی اور سول پاورز ایکشن ان ایڈ کے خاتمے کا فیصلہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن