Xiaomi 17 Pro Maxشاؤمی 17 پرو میکس نے مسلسل چوتھے ہفتے بھی مقبولیت میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: معروف چینی ٹیکنالوجی کمپنی شاؤمی کا نیا اسمارٹ فون 17 پرو میکس صارفین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جو مسلسل چوتھے ہفتے بھی دنیا کے مقبول ترین اسمارٹ فونز کی فہرست میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ فہرست میں بتایا گیا ہےکہ شاؤمی 17 پرو میکس نے ایک بار پھر سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے اور پسند کیے جانے والے فونز میں اپنی برتری برقرار رکھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فون اپنی جدید کیمرہ ٹیکنالوجی، ہائی پرفارمنس چپ سیٹ اور بیٹری لائف کے باعث صارفین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے، ویوو ایکس 300 پرو نے نئی انٹری کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی ہے، جب کہ زیڈ ٹی ای نوبیا ریڈ میجک 11 پرو پلس (ZTE Nubia Red Magic 11 Pro+) نے شاندار آغاز کرتے ہوئے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔
اس کے بعد آنر میجک 8 پرو (Honor Magic 8 Pro) نے چوتھی پوزیشن حاصل کی، جو اس ہفتے فہرست میں نئی انٹری کے طور پر شامل ہوا ہے۔ ایپل کا آئی فون 17 پرو میکس اب پانچویں نمبر پر موجود ہے جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں دو درجے نیچے چلا گیا ہے۔
سام سنگ گلیکسی ایس 25 الٹرا، ون پلس 15 فائیو جی (نئی انٹری) اور شاؤمی 17 پرو فائیو جی بالترتیب چھٹی اور ساتویں پوزیشن پر ہیں۔
اسی طرح اوپو فائنڈ ایکس 9 (نئی انٹری) نے آٹھویں پوزیشن حاصل کی ہے، اوپو فائنڈ ایکس 9 پرو (نئی انٹری) نویں، اور ویوو ایکس 300 فائیو جی (نئی انٹری) دسویں پوزیشن پر موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق رواں ماہ چینی اسمارٹ فونز کی برتری نمایاں رہی ہے، خاص طور پر ویوو، شاؤمی اور اوپو کے نئے ماڈلز نے عالمی سطح پر ایپل اور سام سنگ جیسے برانڈز کو سخت مقابلہ دیا ہے۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو شاؤمی 17 پرو میکس سال 2025 کا سب سے زیادہ مقبول اسمارٹ فون بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فون پرو میکس
پڑھیں:
ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔