Islam Times:
2026-07-24@03:40:07 GMT

سینیٹر مشتاق احمد سے غزہ اور سیاسی صورتحال پر خصوصی انٹرویو

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اپنے خصوصی انٹرویو میں سابق رہنماء جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے، جوانوں کی تنظیم سازی کریں گے، فلسطین کیلئے ایک لاکھ نوجوان تیار کریں گے۔ پارلیمانی سیاست کیلئے اپنی جدودجہد بھی جاری رکھیں گے۔ متعلقہ فائیلیںسینیٹر (ر) مشتاق احمد خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے سینیئر رہنماء اور سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہ چکے ہیں۔ ابتدائی تعلیم صوابی میں حاصل کرنے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے طبیعیات میں ماسٹرز کیا۔ نوجوانی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا اور 2002ء میں مرکزی ناظم اعلیٰ کے عہدے تک پہنچے۔ بعد ازاں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر منتخب ہوئے اور 2018ء میں سینیٹ کے رکن بنے۔ اپنے دورِ سینیٹ کے دوران وہ تعلیم، دفاع، اقلیتی تحفظ اور وفاقی مشاورت سے متعلق اہم کمیٹیوں کا حصہ رہے۔ سینیٹ اجلاسوں میں فعال شرکت اور مؤثر دلائل کے باعث انہیں ایوان کے نمایاں ارکان میں شمار کیا جاتا رہا۔ مشتاق احمد خان انسانی حقوق کے سرگرم علمبردار ہیں اور فلسطین کے مسئلے پر عالمی سطح پر پاکستان کی آواز بن کر ابھرے۔ وہ غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں پیش پیش رہے اور 2025ء میں عالمی قافلہ صمود کے ساتھ امدادی مشن میں شرکت کے دوران اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے، جس سے ان کا نام عالمی میڈیا میں نمایاں ہوا۔ وہ آئینی جمہوریت، انصاف، تعلیم اور انسانی وقار کے مضبوط حامی ہیں اور پاکستان میں سیاسی و سماجی اصلاحات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے