data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے2024 کیلئے اپنی سالانہ معاشی و مالیاتی شراکت رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق میکرو اکنامک چیلنجنگ حالات کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران نے پاکستان کی مارکیٹ میں ریزیلنس اور طویل المدّتی اعتماد کا اظہار جاری رکھا اور تمام اہم مالیاتی اشاریوں میں کلیدی شراکت داری کی اوراو آئی سی سی آئی کے ممبران کی کنٹریبیوشن نے ملکی معیشت کے استحکام پر مثبت اثرات مرتب کیے۔اوآئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں نے مالیاتی سال 2024کے دوران 1.
2ٹریلین روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا جو 2020سے 2024کے دوران 34فیصد کی سالانہ مضبوط شرح نمو کی عکاسی ہے۔اس عرصہ کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کا
مجموعی ٹرن اوور 11ٹریلین روپے سے تجاوز کرگیا اور حکومت کوٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں 2.7ٹریلین روپے کی ادائیگیاکی گئیںجو روزانہ کی بنیادپر تقریباً10ارب روپے بنتاہے اور ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کے 30فیصد کے برابر ہے۔ اس عرصہ کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کے مجموعی اثاثے34ٹریلین روپے جبکہ کیپٹل اخراجات 470ارب روپے سے زائد رہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی
سرمایہ کاروں،خاص طورپر او آئی سی سی آئی کے ممبران نے نئے سرمایہ کاروں کے مقابلے میںملک پر زیادہ پائیدار اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ مالی سال 2015سے 2024کے درمیان، او آئی سی سی آئی کے ممبران کی مجموعی سرمایہ کاری 22.9ارب ڈالر رہی جو اسی عرصہ کے دوران پاکستان میں22.1ارب ڈالر کی مجموعی نئی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے بھی زیادہ ہے۔او آئی سی سی آئی ممبران کی یہ دوبارہ سرمایہ کاری ملک کی طویل المدّتی اقتصادی صلاحیت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اجاگرکرتی ہے۔ سیکٹر کے لحاظ سے آئل اینڈ گیس ، بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور کیمیکل انڈسٹریز کلیدی شراکت دار رہیں۔ صرف بینکنگ اور فنانس سیکٹر نے مجموعی ممبراثاثوں کی 73فیصد نمائندگی کی جو مالیاتی خدمات کی ترقی اور منافع کی عکاسی ہے۔ او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے رپورٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ 30ممالک کے او آئی سی سی آئی ممبران جو ملک کے 13کلیدی شعبوں میں سرگرمِ عمل ہیںپاکستان کی ترقی کیلئے اپنی گہری وابستگی اوراعتماد کا مسلسل مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر یقینی عالمی صورتحال اور مقامی چیلنجز کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران نے نہ صرف اپنی سرمایہ کاری کو برقراررکھا بلکہ اس میں توسیع کی اورروزگار کے مواقع پیداکیے، بھاری ٹیکسز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انڈسٹریز میں جدّت کو فروغ دیا۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی سی آئی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروںکیلئے پہلا پلیٹ فارم ہے اورسرمایہ کاری کے نئے مواقع، نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے او آئی سی سی آئی پالیسی اصلاحات کیلئے کوششیں جاری رکھے گی۔ 30سے زائد ممالک کے او آئی سی سی آئی کے ممبران 13اہم شعبوں میں پاکستان کے قومی خزانے ، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور برآمدی صلاحیت میںنمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔

کامرس رپورٹر

سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
او ا ئی سی سی ا ئی کے ممبران
غیر ملکی سرمایہ
سرمایہ کاری
کے دوران
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔